جمعہ، 25 دسمبر، 2015

میلاد رضائیہ و میلاد نصاری مشترکات


میلاد رضائیہ و میلاد نصاری مشترکات
از افادات استاذ محترم مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی حفظہ اللہ
ترتیب :عرفان اختر 

(۱)  مخصوص تاریخ میں جشن میلاد عیسیٰ علیہ السلام کا بائیبل میں کوئی ذکر نہیں نہ ہی جشن میلاد مصطفی ﷺ کا قرآن میں کوئی ذکر ہے
(۲)  یہ جشن نہ تو عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے منایا نہ محمدمصطفی ﷺ کے یاروں نے منایا
(۳)  دونوں کو سرکاری تہوار انگریز نے قرار دیا
(۴) دونوں میں مجوس کی رسم شمعیں جلائی جاتی ہیں اور توپیں چلائی جاتی ہیں
(۵) دونوں میں کیک کاٹے جاتے ہیں
(۶)  دونوں میں گلیوں ،گھروں ،درختوں ،کھمبوں کو سجایا جاتا ہے (البتہ رضاخانی یہ کام چوری کی بجلی سے کرتے ہیں اور نصاری بل ادا کرتے ہیں )
(۷)  نصاری اس دن مخصوص درخت کے ماڈل بناتے ہیں تو رضاخانی گنبد خضرا کے ماڈل بناتے ہیں
(۸) نصاری لال جوڑے والے بابے کو ایک مخصوص سواری پر بٹھاتے ہیں تو رضاخانی اپنے رہبان کو مخصوص سواری پرسوار کرتے ہیں
(۹)  دونوں میلادی مخصوص فحش گانوں پر ناچ گانے کی محفل سجاتے ہیں
(۱۰)  دونوں میلادی اپنی خواتین کے ساتھ بازاروں میں بے حیائی کو عام کرتے ہیں
(۱۲) دونوں ہی اپنے اپنے مذہب کے احکام پر عمل سے دور اور ریاکاری میں مشہور
(۱۳)  دونوں کو میلادی ہونے پر فخر مگر جہادی ہونے سے منکر
(۱۴)  دونوں ہی اہلحق کے دشمن
(۱۵)  دونوں ہی مخصوص دھنوں ،سازوں پر گاتے ہیں عیسائی اسے‘‘ مذہبی گیت’’ جبکہ رضاخانی اسے‘‘ نعت ’’کہتے ہیں

(۱۶)  دونوں ہی اس دن کو اللہ کی یاد ،شرم و حیاء میں گزانے کے بجائے بے شرمی، بے حیائی، فحاشی اور سڑکوں پر گزارتے ہیں البتہ اول الذکرصبح چرچ چلاجا تاہے مگر ثانی الذکر کو پورا دن مسجد کی شکل دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوتی

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔