جمعہ، 4 دسمبر، 2015

احمد رضا خان کی تعریف میں علمائے دیوبند کی طرف منسوب جعلی حوالوں کی تحقیق

ابن ماسٹر شفیع اوکاڑوی علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی کے حوالہ جات پر ایک نظر

مولانا محمد شفیع اوکاڑوی کچھ عرصہ ستلج کائن ملز سے ملحقہ ہائی سکول میں معلوم اسلامیات کی حیثیت سے کام کرتے رہے ۔۔۔ مولوی صاحب آپ کو کیا تنخواہ ملتی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نورے روپے آپ نے فرمایا صرف نوے روپے ؟ آپ کی نتخواہ چار سو روپیہ ہونی چاہئے مولانا یہ سن کر خوش تو ہوئے لیکن
گہری سوچ میں ڈوب گئے کہ یہ تو بڑی بات ہے تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب ؒ نے دریافت کیا کہ کبھی کراچی بھی گئے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں حضور کراچی جانے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا آپ نے فرمایا کہ برخوردار کراچی جانا چاہئے کچھ دنوں کے بعد بعض دوستوں کی دعوت پر بعزم کراچی روانہ ہوگئے وہاں پر ان کو ایک ماہ تک رکنا پڑا اور کئی تقریبات میں شمولیت کی بالآخر میمن مسجد کے خطیب منتخب ہوگئے اور ان کی ماہوار تنخواہ حضرت صاحب ؒ کے ارشاد عالیہ کے مطابق چار سو روپیہ مقرر ہوئی ‘‘۔ ( معدن کرم ،ص247،غیر تحریف شدہ ایڈیشن کرمانوالہ بک شاپ)

اگر رضاخانی حضرات ماسٹر امین اوکاڑوی کہہ سکتے ہیں تو اس حوالے کی روسے ہمارا ماسٹر شفیع اوکاڑوی کہنے پر بھی ان کو ناراض نہیں ہونا چاہئے ویسے غور فرمائیں جب تک ماسٹر شفیع صاحب معمولی نعت خواں تھے تو نوے روپے ماہوار اور جیسے ہی علمائے اہل سنت کے خلاف خطیب و مصنف بن کر محاذ کھولاتوچارسوروپے ماہوار اس صورت حال میں کسی پیٹ پرست مولوی کا دماغ خراب ہے جواس اختلا ف کوختم کرنے کا تصور بھی دل میں لائے ۔ان شفیع اوکاڑوی صاحب کو آج کل ان کے فرزند مولانا کوکب نورانی صاحب پریس و میڈیا کے زور پر ’’مجدد مسلک اہل سنت ‘‘ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں بیٹے کی طرف سے باپ کو دئے گئے اس لقب کا جو آپریشن بریلوی مفتی اعظم مفتی اقتدار خان نعیمی ابن مفتی احمد یار گجراتی نے ’’حرمت سیاہ خضاب ،ص6,7مطبوعہ نعیمی کتب خانہ گجرات ‘‘ پر کیا ہے وہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔بہرحال مولانا کوکب نورانی نے عنوان دیا :
اعلی حضرت بریلوی کے بارے میں علمائے دیوبند کے تاثرات (فہرست )
اعلی حضرت ۔۔۔کی دینی استقامت ،عشق رسول ( ﷺ) فقہی مرتبہ اور علمی عظمت و کمال کیلئے ذرا علمائے دیوبند ہی کی رائے ملاحظہ کیجئے ‘‘۔ ( سفید و سیاہ ،ص112،ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور)
پھر اس عنوان کے بعد دوسرے نمبر پر حوالہ ابو الاعلی مودودی صاحب کا دیا اور انہیں علمائے دیوبند کے کھاتے میں ڈال دیا اگر یہی حرکت کوئی سنی مسلمان عالم دین کرتا تو رضاخانیوں کی طرف سے لعن طعن کی صرف صغیر صرف کبیر شروع ہوجاتی مگر یہاں چونکہ معاملہ اپنا ہے اس لئے لکڑ ہضم پتھر ہضم۔
خان صاحب کی توثیق پر حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ
مولانا کوکب نورانی صاحب نے جناب نواب احمد رضاخان صاحب کے بارے میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا قول پیش کیا کہ احمد رضاخان صاحب عاشق رسولﷺ تھے اس نے اگر ہماری تکفیر کی ت وعشق رسالت کی بناء پر کی کسی اور غرض سے نہیں کی۔
(سفید و سیاہ ملخصا ،ص112)
اس کے ثبوت کیلئے حوالہ مولوی اوکاڑوی نے مولانا کوثر نیازی مودودی آف پیپلز پارٹی اور چٹان لاہور 23اپریل 1962کا دیا چٹان کا یہ حوالہ عبد الحکیم اختر شاہ جہاں پوری نے اعلی حضرت کا فقہی مقام ،ص110پر بھی نقل کیا ۔
اس قسم کے بناوٹی حکایات پر علامہ خالد محمود صاحب مدظلہ العالی تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’اب آپ غور فرمائیں مولانا کوثر نیازی کے اس بیان میں کیا ذرہ صداقت ہوسکتی ہے ؟ مولانا تھانوی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ مولانا احمد رضاخان نے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کی تحذیر الناس کے تین مختلف مقامات سے عبارت لیکر ایک کفریہ عبارت بنائی اور اس پر کفر کے فتوے حاصل کئے کیا یہ بددیانتی بھی مولانا احمد رضاخان صاحب نے عشق رسول کے جذبے میں کی تھی ؟ پھر حضرت مولانا خلیل احمد محدث سہارنپوری نے جب المہند میں بات کھول دی اور اس پر حضرت مولانا تھانوی نے بھی دستخط فرمادئے تو اب کون کہہ سکتا ہے کہ مولانا تھانوی کی مولانا احمد رضاخان کے اس دجل و فریب پر نظر نہ تھی ۔ سو ایسی حکایات جو ان حضرات کے نام سے لوگوں نے بنارکھی ہیں ہر گز لائق اعتبار نہیں جو حضرت مفتی محمد شفیع صاحب کے نام سے وضع کی گئی ہوں یا شیخ الحدیث والتفسیر مولانا محمد ادریس کاندھلوی کے نام سے ،ان میں ذرا بھی صداقت نہیں ہے مولانا احمد رضاخان نے علمائے دیوبند کے بارے میں جو حرکت شنیعہ کی وہ بددیانتی پر مبنی تھی اور علمائے دیوبند بھی اس میں کسی خوش فہمی میں نہ تھے ‘‘۔
(مطالعہ بریلویت ،ج5،ص84)
احمد رضاخان صاحب کے عقائد باطل تھے مولانا تھانوی ؒ
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
’’پچھلے دنوں ایک خط احمد رضاخان صاحب کے مرید کا آیا تھا جس میں لکھا تھا کہ میں پچیس سال سے مولوی احمد رضاخان صاحب سے مرید تھا اب ان عقائد باطلہ سے توبہ کرتا ہوں اور حضر ت سے بیعت کی درخواست کرتاہوں میں نے جواب لکھ دیا کہ تعجیل مناسب نہیں ‘‘۔ ( ملفوظات حکیم الامت ،ج7،ص13)
اس ارشاد میں حضرت تھانوی ؒ نے تسلیم فرمایا کہ مولانا احمد رضاخان صاحب کے عقائد باطلہ تھے عقائد حقہ نہ تھے ورنہ آپ اس شخص کو لکھ بھیجتے کہ خدا کا خوف کرو احمد رضاخان جیسے عاشق رسول ﷺ کے عقائد کو باطل کہتے ہو آپ کا اس پر نکیر نہ کرنا اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہے کہ احمد رضاخان باطل عقائد کا حامل تھا ۔باقی یہ جو کہا کہ تعجیل مناسب نہیں یہ اس لئے تھا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ حضرت کو مریدوں ہی کی طلب اور پیاس رہتی ہے گویاآپ اسی انتظار میں بیٹھے ہیں ۔اس لئے کہا کہ پہلے استقامت دکھاؤ اس کے بعد بیعت کرلوں گا۔
بریلوی اور حضرت تھانوی ؒ
حضرت حکیم الامت ؒ نے ایک دفعہ فرمایا کہ :
’’یہ اہل بدعت اکثر بد فہم ہوتے ہیں بوجہ ظلمت بدعت کے ۔۔۔علوم و حقائق سے کورے ہوتے ہیں ۔۔۔ویسے ہی لغویات ہانکتے رہتے ہیں جس کے سر نہ پیر ۔۔۔مثلا حضور اکرم ﷺ کو علم غیب محیط ہے اور یہ کہ حضور کا مماثل پیدا کرنے کی اللہ تعالی کو قدرت نہیں ۔۔۔اس قسم کے ان کے عقائد ہیں اور اب تو اکثر بدعتی شریر بلکہ فاسق فاجر ہیں ‘‘۔
(ملفوظات ،ج7،ص23)
اور یہ عقائد مولانا احمد رضاخان بریلوی کے بھی ہیں تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ تو مولانا احمد رضاخان بریلوی کو علم سے کورا لغویات ہانکنے والا ،فاسق و فاجر شخص ہے ۔
حضرت تھانوی ؒ کی طرف سے خان صاحب کے اشعار پر فتوی
حکیم الامت حضرت تھانوی ؒ کے سامنے خان صاحب کے یہ اشعار پیش ہوئے :
میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب
کیونکہ محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا
( حدائق بخشش ،ج1،ص1،مدینہ پبلشنگ کراچی )
حضرت تھانو ی ؒ نے ان اشعار پر یہ فتوی دیا :
’’ اس صورت میں اس شعر کا بنانے والا مشرک اور خارج از اسلام سمجھے جانے کے قابل ہے ۔دوسرے شعر میں لفظ مالک خدا کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور اس صورت میں شعر کا مطلب صاف لفظوں میں یہ ہوا کہ حضرت شیخ محبوب الٰہی ہیں اور محبوب و محب میں کوئی فرق نہیں ہوتا لہذا حضرت شیخ بھی معاذ اللہ خدا ہوئے اور میں تو خواہ کچھ ہی خدا ہی کہوں گا اس اصرار علی الشرک کی وجہ سے بھی اسی فتوے کے مستوجب ہیں جو شعر اول کے متعلق دیا جاچکا ہے اور کسی تاویل سے یہ حکم بدل نہیں سکتا اس لئے کہ یہ الفاظ بالکل صاف ہیں‘‘ ۔( امداد الفتاوی ،ج6،ص76,77،مطبوعہ دارالعلوم کراچی )
کیا اس واضح فتوے کے بعد بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت تھانوی ؒ نے احمد رضاخان کو عاشق رسول ﷺ تسلیم کیا ؟ حضرت ہے کہ حضرت تھانوی ؒ کے تیس جلدوں پر مشتمل ملفوظات بتیس جلدوں پر خطبات ہزار سے زائد تصنیفات میں تو کہیں بھی ایسی کوئی بات نہیں ملتی مگر ان کی وفات کے بعد نامعلوم مریدوں کے خطوط بریلویوں کو موصول ہونا شروع ہوجاتے ہیں کہ حضرت تھانوی ؒ مولانا احمد رضاخان صاحب کو معاذ اللہ عاشق رسول ﷺ مانتے ہیں۔
مولانا کوثر نیازی آف پیپلز پارٹی کی حقیقت
یہ جعلی حکایات بنانے والے مولانا کوثر نیازی بریلوی کے بارے میں راقم الحروف سے محقق اہل سنت حضرت مفتی نجیب اللہ صاحب عمر مدظلہ العالی نے بیان فرمایا کہ حکیم محمود احمد برکاتی صاحب مرحوم سے جب ایک نشست میں کوثر نیازی صاحب کا تذکرہ چل پڑا تو واللہ تاللہ باللہ حکیم صاحب (جن کا تعلق خیر آبادی سلسلے سے ہے ) نے مجھ سے بیان فرمایا کہ وزارت کے دوران کوثر نیازی نے کراچی میں ایک کمرے کا مکان کرایہ پر لیا ہوا تھا جہاں شراب کباب اور مجرے کا دور چلتا اور زنا ہوتا ۔العیاذباللہ
مولاناکوثر نیازی کٹر بریلوی رضاخانی تھے
اس قسم کے حوالوں کی بنیاد پر رضاخانی عوام کو یہ دھوکا دیتے ہیں کہ مولوی کوثر نیازی دیوبندی تھا حالانکہ اس اصول کے تحت نیازی کا کٹر رضاخانی اور بریلوی ہونا ثابت ہوتا ہے اور حقیقت بھی یہی تھی رضاخانی نیازی کو اپنے مجلسوں میں بطور مہمان خصوصی بلایا کرتے تھے ادارہ تحقیقات امام احمد رضاکے ایک اجلاس میں وہ یوں خطاب کرتے ہیں:
’’مولانا کوثر نیازی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنی تقریر کا آغاز اس جملے سے کیا کہ عاشق رسول وہی شخص ہوسکتا ہے جو ناموس رسالت پر مرمٹنا جانتا ہو ۔انہوں نے کہا کہ امام احمد رضا ایک سچے عاشق رسول تھے ۔ان کا سرمایہ حیات عشق رسول تھا اور وہ زندگی بھر لوگوں کو حب رسول کا سبق دیتے رہے۔مولانا کوثر نیازی نے کہا کہ امام خمینی کا فتوی شاتم رسول رشدی پر کل کی بات ہے لیکن امام احمد رضا نے اب سے ۸۰ ،۷۰ سال قبل گستاخان رسول پر جو فتوی دیا تھا وہ ہم سب کیلئے قابل مطالعہ ہے ۔مولانا کوثر نیازی نے برملا اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ اعلی حضرت شاہ احمد رضا خاں کی تصانیف جوں جوں میرے مطالعہ میں آرہی ہیں توں توں ان کی عظمت و بزرگی ،جلالت علمی ،بحر ذکاوت ،دانائی تقوی کا احسان بڑھتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دو قومی نظریہ کے سلسلہ میں امام احمد رضا مقتداء ہیں اور علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح مقتدی ہیں ۔انہوں نے اعلی حضرت کے مشہو ر زمانہ سلام مصطفی جان رحمت پر لاکھوں سلام کو اردو زبان کا قصیدہ بردہ شریف قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ سلام آفاقی ہے ۔جس کی نظری نہیں ملتی۔مولانا نے مزید کہا کہ امام احمد رضا پر جو شدت کا بہتان لگایا جاتا ہے اور جس کی دہائی دی جاتی ہے وہ ان کا عشق رسول ہے ‘‘۔
(تاریخ و کارکردگی ادارہ تحقیقات امام احمد رضا ۔ص۷۰۔۷۱۔ از ڈاکٹر مجید اللہ قادری بریلوی ۔مطبوعہ ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی ۲۰۰۵)
سید سلمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب حوالہ
مولانا کوکب اوکاڑوی سید سلیمان ندوی کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’اس احقر نے جناب مولانا احمد رضاخان صاحب بریلوی مرحوم کی چند کتابیں دیکھیں تو میری آنکھیں خیرہ ہوکر رہ گئیں حیران تھا کہ یہ واقعی مولانا بریلوی صاحب مرحوم کی ہیں جن کے متعلق کل تک یہ سنا تھا کہ وہ صرف اہل بدعت کے ترجمان ہیں اور صرف چند فروعی مسائل تک محدود ہیں مگر آج پتہ چلا کہ نہیں ہرگز نہیں یہ اہل بدعت کے نقیب نہیں بلکہ یہ تو عالم اسلام کے اسکالر اور شاہ کار نظر آتے ہیں جس قدر مولانا ( احمد رضا ) مرحوم کی تحریروں میں گہرائی پائی جاتی ہے اس قدر گہرائی تو میرے استاد مکرم جناب مولانا شبلی نعمانی صاحب اور حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی اور مولانا محمد الحسن صاحب دیوبندی اور حضرت مولانا شیخ التفسیر علامہ شبیر احمد عثمانی کی کتابوں کے اندر بھی نہیں جس قدر مولانا بریلوی کی تحریروں میں ہے۔
(ماہنامہ ندوہ اگست ،ص17،اگست 1913بحوالہ سفید و سیاہ ،ص112,113)
یہی حوالہ معارف رضا میں بحوالہ طمانچہ ص35میں بھی دیا گیا اور وہاں حوالہ میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمۃ ‘‘۔ (معارف رضا ،ص253شمارہ یازدہم 1991 ؁ء)
مگر اوکاڑوی نے پنے ہاتھ کا کرتب دکھا کر ’’علیہ الرحمۃ ‘‘ کو ایسے غائب کیا کہ اب دور بین لگانے پر بھی آپ کو نظر نہیں آئے گا ۔ اس تحریف کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات 1943 ؁ء میں ہوئی 1913کے ندوہ رسالہ میں اگر ان کی وفات کے 30سال قبل ہی رسالے میں ان کے ساتھ ’’علیہ الرحمۃ‘‘ لکھنا ہی اس کے جھوٹ کا پول کھولنے کیلئے کافی ہے ۔ پھر اس ندوہ رسالے میں احمد رضاخان صاحب کو ’’مرحوم ‘‘ لکھا گیا ہے حالانکہ خان صاحب کا انتقال 1921میں ہوا وفات سے 8سال قبل ہی ان کو مرحوم لکھ دینا اس حوالے کا میڈ ان بریلوی ہونے کی چغلی کھا رہا ہے ۔پھر اگر خان صاحب کی کتب اتنی ہی اعلی پائے کی تھیں کہ ندوی مرحوم ان جلیل القدر علمائے دیوبند (علامہ تھانوی ،شیخ الہند و علامہ عثمانی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ) پر ترجیح دے رہے ہیں تو ندوی مرحوم کی کسی ایک کتاب کا حوالہ دیں جس میں ندوی ؒ نے خان صاحب کی ان تحقیقات کا حوالہ دیا ہو یا ان سے استفادے کا کہا ہے ۔جھوٹ بولنے کیلئے بھی سلیقہ چاہئے یہ حوالہ بالکل جعلی اور من گھرٹ ہے۔
یہ جعلی حوالہ عبد الوہاب قادری کی صاعقۃ الرضا،ص158پر بھی دیا گیا ہے۔
شبلی نعمانی صاحب کی طرف منسوب جعلی حوالہ
کوکب نورانی صاحب لکھتے ہیں :
’’سیرۃ النبی نام کی مشہور کتاب لکھنے والے جناب شبلی نعمانی فرماتے ہیں :
مولوی احمد رضاخان صاحب بریلوی جو اپنے عقائد میں سخت متشدد ہیں مگر اس کے باوجود مولانا صاحب کا علمی شجرہ اس قدر بلند درجہ کا ہے کہ اس دور کے تمام عالم دین اس (مولانا احمد رضاخان صاحب ) کے سامنے پرکاہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتے اس احقر نے بھی آپ ( فاضل بریلوی ) کی متعدد کتابیں جس میں احکام شریعت اور دیگر کتابیں بھی شامل ہیں اور نیز یہ کہ مولانا کے زیر سرپرستی ایک ماہ وار رسالہ الرضا بریلوی سے نکلتا ہے جس کی چند قسطیں بغور و حوض دیکھی ہیں جس میں بلند پایا مضامین ہوتے ہیں‘‘۔ ( رسالہ ندوہ ،اکتوبر 1964،ص17،بحوالہ سفید و سیاہ ،ص113)
معارف رضا ،ص254پر ندوہ کا سن اشاعت 1964کی جگہ 1914ہے اور یہی صحیح ہے یہی حوالہ طمانچہ ،ص34و صاعقۃ الرضا ،ص159پر بھی دیا گیا ہے ۔
شبلی نعمانی صاحب کی طرف منسوب اس جعلی روایت کے من گھرٹ ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس میں جس کتاب ’’احکام شریعت ‘‘ کا تذکرہ ہے اس میں 1337 ؁ھ،1338 ؁ھ،1339 ؁ھ، تک کے سوالات موجود ہیں بلکہ اس کتاب میں موجودایک رسالہ کا تاریخی نام الرمز المرصف علی سوال مولانا السید اصف 1339 ؁ھ ہے ( احکام شریعت ،ص210) یعنی احمد رضاخان کی وفات 1920 ؁ء سے ایک سال قبل 1919 ؁ء کے سوالات بھی موجود ہیں تو جو کتاب 1919 ؁ء تک چھپی ہی نہیں اسے شبلی نعمانی نے 1914میں کیسے پڑھ لیا ؟ خدا کے بندوں جھوٹ بولنے کا بھی کوئی سلیقہ ہوتا ہے ۔پھر اگر شبلی نعمانی واقعی ہی احمد رضاخان صاحب کو اتنا بڑا طرم خان سمجھتے تو اپنے شاگردوں سے ضرور ان کا تذکرہ کرتے مگر ماقبل میں بریلویوں ہی کا حوالہ گزرچکا ہے کہ سید سلیمان ندوی ؒ احمد رضاخان کو نہیں جانتے تھے ۔پھر شبلی صاحب کی طرف منسوب اس جملے:’’ مولانا صاحب کا علمی شجرہ اس قدر بلند درجہ کا ہے کہ اس دور کے تمام عالم دین اس (مولانا احمد رضاخان صاحب ) کے سامنے پرکاہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتے‘‘ اس کے جھوٹا ہونے کیلئے کافی ہے کیونکہ احمد رضاخان نے جس نقی علی خان صاحب سے علم حاصل کیا اس کا ہندوستان کی علمی دنیا میں کوئی تعارف نہیں ۔مگر بریلوی حضرات کی ذہنیت کا اندازہ لگائیں کہ ان جھوٹے اقوال پر کس طرح رائی کا پہاڑ کھڑا کردیا چنانچہ عبد الوہاب خان قادری خلیفہ مجاز مصطفی رضاخان لکھتا ہے :
ڈاکٹر صاحب ! بار بار اس عبارت کو غور سے پڑھیں شاید ’’پرکاہ ‘‘ کا مطلب آپ نہ سمجھ سکیں پرکاہ تنکے کو کہتے ہیں یہ آپ کے مسلمہ سند یافتہ شمس العلماء شبلی نعمانی میں جو متعدد کتب کے مصنف ہیں ( مگر کسی ایک کتاب میں احمد رضا جیسے نام نہاد محقق سے اس اعتراف کے باوجود استفادہ نہیں کیا ۔از ناقل)سیرۃ النبی (ﷺ) بھی ان کی لکھی ہوئی ہے یہ فرمارہے ہیں اس دور کے تمام عالم دین اس مولوی احمد رضاخان صاحب کے سامنے پرکاہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتے اس دور کے عالم دین کہلانے والوں میں آپ کے اکابر و اصاغر سب دداخل ہیں ‘‘۔ ( صاعقۃ الرضا علی اعداء المصطفی ،ص159,160)
اندازہ لگائیں جو حضرات آج اس جدید میڈیا دور میں بھی ایسے جھوٹے بناوٹی حوالے تیار کرکے اس پر اتنی بڑی عمارت پروپگینڈے کی تعمیر کرسکتے ہیں وہ اگر حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف جعلی فتوی یا علمائے دیوبند پر جعلی الزامات منسوب کردیں تو کیا بعید ہے ؟
علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب جعلی حوالہ
مولانا کوکب نورانی صاحب لکھتے ہیں :
’’جناب محمد انور شاہ کشمیری ( صدر مدرس دارالعلوم دیوبند ) فرماتے ہیں جب بندہ ترمذی شریف اور دیگر کتب احادیث کی شروح لکھ رہا تھا تو حسب ضرورت احادیث کی جزئیات دیکھنے کی ضرورت پیش آئی تو میں نے شیعہ حضرات و اہل حدیث و دیوبندی حضرات کی کتابیں دیکھیں مگر ذہن مطمئن نہ ہوا بالآخر ایک دوست کے مشورے سے مولانا احمد رضاخان بریلوی کی کتابیں دیکھیں تو میرا دل مطمئن ہوگیا کہ میں اب بخوبی احادیث کی شرح بلا جھجھک لکھ سکتا ہوں واقعی بریلوی حضرات کے سرکردہ عالم مولانا احمد رضاخان صاحب کی تحریریں شستہ اور مضبوط ہیں جسے دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مولوی احمد رضاخان صاحب ایک زبردست عالم دین اور فقیہ ہیں ‘‘۔ ( ماہنامہ ہادی دیوبند،جمادی الاولی ،1330 ؁ھ ،ص21بحوالہ سفید و سیاہ ،ص114)
معارف رضا ،ص252,253،طمانچہ ،ص39،صاعقۃ الرضا ،ص162,163۔
حضرت علامہ انورشاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ جیسے جلیل القدر محدث کا حدیث کی جزئیات کیلئے شیعہ و غیر مقلدین کی شروحات کی طرف مراجعت کرنا ہی اس روایت کے جھوٹے و جعلی ہونے کی دلیل ہے ۔اس روایت کو گھڑنے والا اتنا جاہل ہے کہ وہ شروحات لکھنے کی نسبت بار بار حضرت کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی طرف کررہا ہے حالانکہ حضرت کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے کبھی کوئی حدیث کی شرح نہیں لکھی بلکہ ان کے شاگردوں نے ان کی تقاریر کو جمع کرکے شائع کیا یعنی حضرت کشمیری کی تصانیف نہیں بلکہ امالی ہیں۔نیز ہم پوری رضاخانیت کو چیلنج کرتے ہیں کہ احمد رضاخان نے جو شروحات احادیث لکھی ہیں جن کی طرف علامہ کشمیری جیسا آدمی مراجعت کرتا تھا وہ کہاں ہیںِ کس نے طبع کی ہیں کہاں سے دستیاب ہوں گی؟علامہ کشمیری ؒ نے ترمذی کی شرح لکھنے کی بات کی ہے کہ اس کیلئے احمد رضاخان کی طرف مراجعت کرنا پڑی حالانکہ احمد رضاخان کی ترمذی کی نام نہاد شرح تو ان کے بیٹوں سے لیکر آج تک کے رضاخانیوں نے حقیقت میں کیا خواب میں بھی نہیں دیکھی ہوگی تو علامہ کشمیری ؒ نے کہاں سے دیکھ لی ؟سچ کہا
درووغ گو را حافظہ نہ باشد
ویسے ان جعلی حوالوں سے علمائے دیوبند کا صاحب کشف ہونا تو کم سے کم ثابت ہورہا ہے کہ جن کتابوں کو دنیا پر وجود ہی نہیں اور جو آگے چل کر کئی سال بعد طبع ہوکر معرض وجود میں آنی تھیں انہیں یہ اکابر پہلے ہی سے دیکھ لیتے تھے۔
مولانا اعزاز علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب جھوٹا حوالہ
دارالعلوم دیوبند کے شیخ الادب جناب اعزاز علی فرماتے ہیں یہ احقریہ بات تسلیم کر پر مجبور ہیں کہ اس دور کے اندر اگر کوئی محقق اور عالم دین ہے تو و ہ احمد رضاخان بریلوی ہے کیونکہ میں نے مولانا احمد رضاخان کو جسے ہم آج تک کافر بدعتی مشرک کہتے رہے ہیں بہت وسیع النظر اور بلند خیال علو ہمت عالم دین صاحب فکر و نظر پایا آپ ( فاضل بریلوی ) کے دلائل قرآن و سنت سے متصادم نہیں بلکہ ہم آہنگ ہیں لہذا میں آپ کو مشورہ دوں گا اگر آپ کو کسی مشکل مسئلہ میں کسی قسم کی الجھن درپیش ہو تو آپ بریلی میں جاکر مولایا احمد رضاخان صاحب بریلوی سے تحقیق کریں۔( رسالہ النور تھانہ بھون شوال المکرم 1342 ؁ھ ،ص40)
بحوالہ سفید و سیاہ ،ص114،معارف رضا ،ص252،طمانچہ ،ص40،صاعقۃ الرضا ،ص163,164
یہ رسالہ النور کس کا ہے ؟ کس نے لکھا ؟ اس کی کیا حیثیت ہے ؟ ان رضاخانیوں نے کبھی خود بھی یہ حوالہ دیکھا ہے ؟ اس جعلی روایت کو گھڑنے والے کو اتنا بھی علم نہیں کہ ان کا امام احمد رضا 1340میں وفات پا گیا تھا تو دو سال بعد 1342میں کیا مولانا اعزاز علی احمد رضاخان صاحب کی قبر میں بوسیدہ ہڈیوں سے علمی استفادہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں ؟ شرم تم کو مگر نہیں آتی
اس کے جھوٹا ہونے کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ مولانا اعزاز علی کی طرف منسوب یہ قول : ’’آپ ( فاضل بریلوی ) کے دلائل قرآن و سنت سے متصادم نہیں بلکہ ہم آہنگ ہیں‘‘ حالانکہ مولانا اعزاز علی نے فتاوی دارالعلوم دیوبند میں جگہ جگہ علم غیب حاضر ناظر مختار کل اور بدعات پر احمد رضاخان کے دلائل کا رد کیا ہے ۔
علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ کی طرف منسوب جعلی حوالہ
جناب شبیر احمد عثمانی فرماتے ہیں مولانا احمد رضاخان کو تکفیر کے جرم میں برا کہنا بہت ہی برا ہے کیونکہ وہ بہت بڑے عالم دین اور بلند پایہ محقق تھے مولانا احمد رضاخان کی رحلت عالم اسلام کا بہت بڑا سانحہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ‘‘۔
(ماہنامہ ہادی دیوبند،ذو الحجہ ،1369 ؁ھ ،ص21،بحوالہ سفید و سیاہ ،ص116،صاعقۃ الرضا ،ص164
مولانا احمد رضاخان کی وفات 1340 ؁ھ میں ہوئی تو وفات کے 29سال بعد 1369 ؁ھ میں ان کے سانحہ ارتحال پر افسوس کرنا پکار پکار کہہ رہا ہے کہ میں کسی بریلوی کذاب کے دماغ کا شاخسانہ ہوں۔
علامہ بنوری ؒ کے والد کی طرف منسوب حوالہ
کوکب اوکاڑوی لکھتا ہے :
’’جناب محمد یوسف بنوری کے والد جناب زکریا شاہ بنوری فرماتے ہیں اگر اللہ تعالی ہندوستان میں (مولانا ) احمد رضا بریلوی کو پیدا نہ فرماتا تو ہندوستان میں حنفیت ختم ہوجاتی ‘‘۔ ( سفید و سیاہ ،ص116)
مولنا اوکاڑوی نے اس جھوٹ کا کوئی حوالہ نہیں دیا ایسے موقع پر حسن علی رضوی یوں گوہر افشانی کرتے ہیں :
’’اس الزام بد انجام کے ساتھ کوئی حوالہ نہیں نہ دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف کی روئیداد کا حوالہ ہے نہ بریلی شریف کے کسی روزنامہ اخبار یا ماہنامہ رسالہ کا حوالہ نہ کسی عام اخبارات میں ہندو پاکستان کے کسی اخبار کا سن اور تاریخ تعین کے ساتھ حوالہ لہذا یہ حوالہ حرامی ہے کسی دیوبندی ملاں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے اور جنم لیا ہے پھر اس مضمون کی ترتیب بھی بتارہی ہے کہ یہ حوالہ ولد الحرام ہے ‘‘۔
( محاسبہ دیوبندیت ،ج2،ص44،انجمن انوار القادریہ کراچی )
خلاصہ کلام کہ یہ تمام حوالہ جات من گھرٹ اور وضع کردہ ہیں یہ اصل حوالے خود ان لوگوں نے بھی کبھی نہ دیکھے ہوں گے ہم ان پر کوئی تبصرہ اپنی طرف سے کریں تو شائد اوکاڑوی صاحب کہیں کہ تمہیں تہذیب و شائستگی سے تمہیں کوئی سروکار نہیں اس لئے ہم انہیں کے فرقے کے اجمل العلماء کی کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی ،تہذیب و شائستگی سے بھرپور ،متانت و سنجیدگی سے مرقوم عبارت ان کی بارگاہ میں بطور تبصرہ پیش کرتے ہیں :
’’انہوں نے ہی بہتان طرازی کا بازار گرم کیا کتب دینیہ میں تحریفیں کرنا ان کی مخصوص عادت ہے عبارات میں کتر و بیونت کرنا ان کی مشہور خصلت ہے یہ فرقہ جب اپنی مکاری پر اتر آئے ت واپنے خصم ( مخالف ) کا قول اپنے دل سے بنا کر لے آئے یہ جماعت جب اپنی افتراء پردازی پر اتر آجائے تو خصم ( مخالف ) کے آباؤ اجداد اور مشائخ کی طرف سے جو عبارات چاہے گڑھ کر لے آئے ان تصانیف کے نام تراش لے پھر ان کے مطبع تک بنا ڈالے ۔۔۔مسلمانو ذرا انصاف سے کہنا کیا ایسا جیتا افتراو بہتان کیا ایسی گندی اور گھنونی تحریر تم نے کوئی اور بھی دیکھی ؟ کیا ایسا صریح کذب اور جھوٹ کیا ایسی بے حیائیوں اور ڈہٹائیوں کی نظیر تم نے کوئی اور بھی سنی ؟ کیا ایسی بے شرمی کا مظاہرہ تم نے کہیں اور بھی کیا ؟ کیا ایسی بے ایمانی اور مکر و کید کا مجموعہ تم نے کبھی اور بھی دیکھا؟ قابل توجہ یہ چیز ہے کہ یہ سارا افترا و بہتان دجل و فریب مکر و کید تحریف و کذب محض اس لئے عمل میں کہ ۔۔۔( اے دیوبندیو! از ناقل ) تم یہ کہتے ہو ۔۔۔اور تمہارے مشائخ کرام فلاں فلاں کتاب میں یوں فرماتے ہیں ‘‘۔
(رد شہاب ثاقب ،ص12تا14،ادارہ غوثیہ رضویہ لاہور )
انہی کی مطلب کی کہہ رہا ہوں زبان میری بات ان کی
انہی کی محفل سنوار رہا ہوں چراغ میرارات ان کی




0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔