جمعرات، 24 دسمبر، 2015

ہمارے جلسے جلوس پر اعتراض


%% ہمارے جلسے جلوس پر اعتراض %%
مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی
دلیل:تم بھی تو مختلف عنوانات سے جلسے جلوس کرتے ہو وہ بدعت نہیں اورہمارا میلاد کا جلسہ بدعت۔
جواب:
مولانا پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ کا اپنے جلسے کو ہمارے جلسوں پر قیاس کرنا صحیح نہیں اس لئے کہ آپ کے شیخ الحدیث عبد الرزاق بھترالوی لکھتا ہے کہ :
’’آجکل مختلف عنوانات سے ربیع الاول میں جلسے ہورہے ہیں ،کسی کا نام پیغمبر انقلاب کانفرنس ،کسی کا نام ذکر ولادت ﷺ کانفرنس اور کسی کا نام سیرت النبی ﷺ کسی کا نام حسن قرات و حمدو نعت کانفرنس ۔۔۔راقم نے کبھی کسی عنوان پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ خیال یہ ہوتا ہے کہ میرے پیارے مصطفی کریم ﷺ کا ذکر ہوتا رہے خواہ کسی نام سے بھی ہوتا رہے۔(میلادمصطفی ﷺ ص:۴مکتبہ امام احمد رضا)
معلوم ہوا کہ ہمارے جلسوں پر آپ کو کوئی اعتراض نہیں اور آپ بھی اسے درست سمجھتے ہیں تو جب ہمارے جلسے متفق علیہ ہیں او ر آ پ کے نزدیک بھی جائزتو اس جائزکام پر کسی بدعت کو کس طرح قیاس کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہمارے نزدیک مروجہ جشن میلاد بدعت ہے۔
دوسری بات یہ کہ مطلق وعظ و نصیحت تعلیم و تعلم سیرت رسول ﷺ کے بیان کیلئے جلسے خود نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ہوتا اور متواتر چلاآرہا ہے جس کا انکار بدیہات کاانکار ہے نبی کریم ﷺ صحابہ کی موجودگی میں کھڑے ہوکر وعظ و تذکیر کیا کرتے دینی امور کی تعلیم دیتے اداب و اخلاق سکھائے جاتے خود نبی کریمﷺ کے سینکڑوں صحابہ سے سینکڑوں احادیث کامنقول ہونا اسی جلسوں کی غمازی کرتا ہے پھر صحابہ نے نبی ﷺ کی سیرت کو بیان کیا اور آج نبی کریم ﷺ کی سیرت پر جو ضخیم کتابیں ہیں یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ ہر دور میں نبی کریم ﷺ کی سیرت مجمعوں میں بیان ہوتے حدیث کی کتابوں میں آپ کو یہ الفاظ مل جائیں گے
سمعت عمر علی منبر النبی ﷺ ۔۔۔سمعت عثمان بن عفان خطیبا علی منبر رسو ل اللہ ﷺ ۔
۔قام موسی النبی خطیبا فی بن اسرائیل
خود عبد الرزاق بھترالوی کہتا ہے کہ :
’’اس وقت جلسے دو قسم کے ہوتے تھے ایک وہ جس میں نبی کریم ﷺ کے اوصاف بیان ہوتے تھے وہ جلسہ اللہ نے منعقد فرمایا انبیا ء کرام نے آپ کے اوصاف بیان کئے صحابہ کرام نے آپ کے اوصاف کا تذکرہ کیا (میلاد مصطفی ص ۶)
لہٰذا اتنا تو ثابت ہے کہ مطلق جلسہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ سے ثابت ہے اب رہا ان کیلئے کوئی دن یا وقت طے کردینا تو دیکھیں ایک ہوتا ہے تعین شرعی اور ایک ہوتا ہے تعین عرفی شریعت سے دونوں ثابت ہیں مثلا تعین شرعی جیسے نماز کیلئے وقت حج کیلئے جگہ زکوۃ کا نصاب وغیرہا اور تعین عرفی بھی جائز ہے جسے کسی کام کیلئے کوئی وقت انسان کی سہولت کیلئے مقرر کردیا کہ جی فلا ں کا نکاح فلاں دن وقت میں ہوگا اور خود نبی کریم ﷺ کی سیر ت سے بھی ثابت ہے کہ جب ایک عورت آپ کے پاس آئیں اور گزارش کی کہ کچھ احادیث ہم سے بھی بیان ہوجائیں تو آپ نے ان کو کہاکہ فلاں وقت میں فلاں جگہ جمع ہوجانا۔۔
جاء ت امراۃ الی رسول اللہ ﷺ فقالت یا رسول اللہ ذھب الرجال بحدیثک فاجعل لنا من نفسک یوما ناتیک فیہ تعلمنا مما علمک اللہ تعالی فقال اجتمعن فی یوم کذا و کذا و فی مکان کذا و کذا فاجتمعن (بخاری ج۲ص۱۰۸۷)
ظاہر ہے کہ یہ مکان و جگہ کی تعین عرفی ہی تھی کہ تاکہ وہاں جمع ہونے میں آسانی ہو مسئلہ تب بنتا ہے کہ جب ان دونوں تعینات کوان کے مقام سے ہٹادیا جائے یعنی تعین عرفی کو شرعی قرار دے دیا جائے کہ اگر فلاں وقت میں فلاں کام نہ ہوا تو تم وہابی گستاخ ہوجاؤ گے یا تعین شرعی کو معا ذ اللہ عرفی قرار دے دیا جائے ۔ہماراان جلسوں کیلئے وقت یا جگہ مقرر کردینا تعین عرفی کے طور پر ہے کہ لوگ اس تاریخ سے پہلے جلسے میں شرکت کیلئے تیاررہیں اور جگہ تک پہنچنے میں آسانی ہو ہم سے کسی نے آج تک ان تعینات کو شرعی درجہ قرار نہیں دیا اور اس میں ردو و بدل بھی ہوتا رہتا ہے اسی طرح ہم نے ان جلسوں کو کبھی ان کے مقام سے نہیں ہٹایا ان کا مقام ابھی بھی وہی تصور کیا جاتا ہے جو نبی کریم ﷺ کے یا بعدکے زمانوں میں ہوتا تھا مگر دوسری طرف جشن عید میلاد النبی ﷺ کو دین کا ایک مستقل حصہ تسلیم کرلیا گیا ہے اس کیلئے ۱۲ ربیع الاول کے علاوہ کسی اور دن کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور کسی وجہ سے کسی وقت ان جلسوں جلوسوں کو بند کرنے کا کہہ دیا جائے تو قتل و قتال تک کی دھمکیاں دے دی جاتی ہیں خود رضاخانیوں نے اس بات اعتراف کیا ہے کہ ہمارے ہاں جمعہ کی نما ز کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جتنی اس جشن کو پھر یہ جشن جن خرافات کا آج مجموعہ بن چکا ہے وہ اس پر متضاد تو کس طرح اس کا جائز قرار دے دیا جائے؟۔فی الحال ہماری طرف سے اتنی تفصیل کافی ہے اگر چہ ہم کچھ اور بھی کہنے کا ارادہ کرتے ہیں اگر مخالفین کی طرف سے کوئی جواب آیا تو انشاء اللہ مزید وضاحت پیش کی جائے گی۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔