سوموار، 23 مئی، 2016

اعتراض بر تقویۃ الایمان نبی ﷺ کی تعریف عام بشر سی کرو


ماخوذ از دفاع اہل سنت وجماعت مولفہ مولانا ساجد خان نقشبندی
اعتراض30:حضور ﷺ اور دیگر انبیاء و اولیاء کی تعریف عام بشر سے بھی کم کرو۔نعوذباللہ
اس عنوان کے تحت رضاخانی لکھتا ہے :


مولوی اسمعیل دہلوی رقمطراز ہیں کہ کسی بزرگ کی تعریف میں زبان سنبھال کر بولو جو بشر کی سی تعریف ہو سو وہی کرو سو اس میں بھی اختصار ہی کرو۔تقویۃ الایمان ،ص63۔
(دیوبندیت کے بطلان کاانکشاف ،ص67،الحق المبین ،ص،77)
الجواب:یہاں بھی رضاخانیوں نے مکمل عبارت پیش نہیں کی حضرت شہید ؒ مشکوۃ کی حدیث پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں (صرف ترجمہ پیش کیا جارہا ہے )
مشکوۃ کے باب المفاخرہ میں لکھا ہے کہ ابو داؤد نے ذکرکیا کہ مطرف نے نقل کیا کہ آیا میں بنی عامر کے ایلچیوں کے ساتھ پیغمبر خدا کے پاس پھر کہا ہم نے کہ تم سردار ہو ہمارے سو فرمایا کہ سردار تو اللہ ہے پھر کہا کہ ہم نے کہ بڑے ہمارے ہو بزرگی میں اور بڑے سخی ہو فرمایا کہ خیر اس طرح کا کلام کہو اس میں بھی تھوڑا کلام کرو اور تم کو کہیں بے ادب نہ کرے شیطان‘‘۔
ف:یعنی کسی بزرگ کی شان میں زبان سنبھال کر بولو اور جو بشر کی سی تعریف ہو وہی کرو سو اس میں بھی اختصار کرو اور اس میدان میں منہ زور گھوڑے کی طرح مت دوڑو کہ کہیں اللہ کی جناب میں بے ادبی نہ ہوجائے ‘‘۔(تقویۃ الایمان ،ص89)
حضرت شاہ شہید صاحب ؒ نے جو کچھ کہا وہ مذکورہ حدیث ہی کا مفہوم و مطلب ہے نہ معلوم رضاخانیوں کو ا س سے کیا تکلیف ہے ؟ بزرگان دین کی ’’بشرسی نہیں‘‘ تو کیا ’’خدا کی سی ‘‘ تعریف کریں؟
ملا علی قاری ؒ ’’او بعض قولکم‘‘ کا مطلب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’قولوا قولکم یعنی قولوا ھذا القول او اقل منہ ولا تبالغوا فی مدحی بحیث تمدحوننی بشیء یلیق بالخالق ولا یلیق بالمخلوق ‘‘۔ ( مرقاۃ ،ج9 ،ص 125)
ہاں اس طرح کی تعریف کر و بلکہ اس سے بھی کم کر و اور میری مدح سرائی میں مبالغہ آرائی مت کر و اس طور پر کہ ایسی چیز سے میری مدح کرو کہ جو اللہ کی شان کے لائق ہو اور مخلوق کی شان کے لائق نہ ہو۔
علامہ خرپوتی کا حوالہ ماقبل میں گزرچکا ہے کہ انبیاء کی مدح سرائی میں مبالغہ سے بچو اور انہیں حد انسانیت سے نکال کر خدائی کے منصب پر فائز مت کردینا ۔(شرح خرپوتی ،ص139)
پھر رضاخانیوں کا دجل و فریب ملاحظہ ہو کہ عبارت میں ’’بزرگ‘‘ کے لفظ ہیں انہوں نے اسی ’’انبیاء و اولیاء‘‘ سے بدل دیا۔ نیز ’’اختصار‘‘ کا معنی قطعی طور پر ’’کمی کرنا ‘‘بھی رضاخانیوں کی جہالت ہے کیونکہ لغت میں اس کا یہ معنی موجود ہے :
’’بہت سے مطلب کو تھوڑے لفظوں میں ظاہر کرنا
گوش سامع کو گراں طول سخن ہے اے اسیر
اختصار اچھا ہے بیتوں کا بڑھانا کیا ضرور‘‘۔(نور اللغات ،ج 1،ص290)
یعنی فصیح الفاظ کا استعمال کہ الفاظ تو کم سے کم ہوں مگر معنی ان کا بہت وسیع ہو ۔
علامہ ابن علی مقری لکھتے ہیں:
الاختصار:الکلام و حقیقتہ الاقتصار علی تقلیل اللفظ دون المعنی
(المصباح المنیر فی غریب شرح الکبیر للرافعی ،ج1،ص170،المکتبۃ العلمیہ بیروت)
آپ حضرات نے رضاخانی خطیب کو تو سنا ہو گا بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے فضائل و کمالات بھلا کون بیان کرسکتا ہے اور کس زبان میں یہ طاقت ہے البتہ ’’مختصرا‘‘ کچھ باتیں عرض کرتا ہوں ۔تو کیا رضاخانی اس کا یہ مطلب لیں گے کہ وہ خطیب نبی کریمﷺ کی شان میں ’’کمی ‘‘ کررہا ہے ؟زبان زد عام شعر کا مصرعہ ہے
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
تو کیا یہاں بھی مختصر کا معنی نبی کی شان میں کمی کرنا لوگے ؟اگر نہیں اور یقیناًنہیں تو شاہ صاحب ؒ کی عبارت سامنے آتے ہی تمہاری آنکھوں پر شیطینیت کے پردے کیوں آجاتے ہیں ؟

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔