جمعہ، 27 مئی، 2016

بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی آجائے تحزیر الناس پر ایک اعتراض کا جواب


حضرت کی کتاب :دفاع اہل السنۃ والجماعۃ سے ماخوذ
بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی آجائے
رضاخانی حضرات اس عبارات پر بہت اعتراض کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے دو مایہ ناز اعتراض ہیں جن کو یہاں نقل کیا جارہا ہے :

اعتراض:۱:بعض دیوبندی کہتے ہیں کہ یہاں بالفرض کا لفظ ہے لہذا عبارت ٹھیک ہے ان سے چند استفسار کئے جاتے ہیں امید ہے وہ جواب دیں گے اگر کوئی کہے بالفرض کسی کی دونوں آنکھیں نکال دی جائیں تو اس کی بینائی میں کچھ فرق نہیں آئے گا تو کیا اس کی بینائی میں فرق نہیں آئے گا ؟اگر کوئی کہے بالفرض کوئی مسلمان اللہ کے الہ ہونے کے بعد کسی اور کو الہ مانے تو اس کے عقیدہ توحید میں کچھ فرق نہیں آئے گا اگر مسؤلہ بالا عبارت ٹھیک ہیں تو تحذیر الناس کی عبارت بھی ٹھیک ہے‘‘۔(عبارات اکابر کا تحقیقی جائزہ،ج1،ص202)
جواب: مندرجہ بالا عبارات و سوال بالکل ٹھیک ہیں لہذا اب تحذیر الناس کو بھی ٹھیک مانو اس لئے کہ ان میں صرف فرض کیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ صرف فرض کرلینے سے کہ فرض کرلو کسی کی دونوں آنکھیں نکال دی جائیں تو واقعۃ اس کی بینائی میں کوئی فرق نہیں آئے گا اس لئے کہ یہ تو صرف فرض کرنا ہے فرق تو تب آئے گا جب حقیقۃ بھی ا س کی آنکھیں نکال دی جائیں ۔دیکھو مولوی احمد رضاخان لکھتا ہے :
’’ٹھیک ہے یہ شرطیہ ہے جس کیلئے مقدم اور تالی کا امکان ضروری نہیں اللہ عز و جل فرماتا ہے :
قُلْ اِنْ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَد’‘ فَاَنَا اَوَّلُ الْعَابِدِیْنَ اے محبوب تم فرمادو کہ اگر رحمن کیلئے کوئی بچہ ہوتا تو اسے سب سے پہلے میں پوجتا‘‘۔(ملفوظات ،حصہ دوم ،ص161)
تو کیا اس آیت میں بیٹا ہونے اور اس کو پوجنے کو فرض کردینے سے رب کی الوہیت اور محمد ﷺ کی توحید میں کوئی فرق آگیا؟ایک بریلوی مجھے کہنے لگا کہ فرض کرلو کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو تو اس کی زوجیت میں کوئی فرق نہیں آئے گا‘‘ میں نے کہا کہ بالکل جی کوئی فرق نہیں آئے گا میں نے فرض کرلیا اب بھی وہ میری بیوی ہے تو کہتا ہے کہ پھر دو نہ جب فرق نہیں آئے گا میں نے کہا بے وقوف جب دے دوں گا تو فرض تھوڑی رہے گا وہ تو حقیقۃ ہوجائے گا۔ان بیوقوفوں کو ابھی تک قضیہ فرضیہ اور قضیہ حقیقیہ میں فرق معلوم نہ ہوسکا اور اسی کا گلہ قمر الدین سیالوی صاحب نے بھی کیا کہ ہمارے لوگوں سے یہی غلطی یہاں ہوئی۔
اعتراض۲:نانوتوی صاحب کہہ رہے ہیں کہ آپ کے زمانہ میں یا آپ کے زمانہ کے بعد اگر بالفرض کوئی نبی پیدا ہوجائے تو آپ کی خاتمیت میں کچھ فرق نہیں آتا حالانکہ جب مقدم محال ہو تو تالی بھی محال ہونا چاہئے کیونکہ مقدم تالی کو مستلزم ہوتا ہے اور جو محال کو مستلزم ہو وہ خود محال ہوتا ہے ‘‘۔(عبارات اکابر کا تحقیقی جائزہ،ج2،ص،347)
اور تبسم شاہ بخاری لکھتا ہے :
جیسے تھوڑی دیر کیلئے متعدد خداؤں کا ہونا (جوکہ محال ہے )تسلیم کرلیا جائے یعنی لوکان فیھما الھۃ تو نظام کائنات برباد ہوجائے (یعنی فساد لازم آیا)اسی طرح جب حضور ﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا (جوکہ محال ہے )تسلیم کرلیا جائے تو اس میں آپ کی شان میں فرق آتا ہے (یعنی فساد لازم آیا)یہ کہنا کہ خاتمیت مرتبی میں فرق نہیں آتا قطعا باطل ہے اس طرح فرض کرنے سے تو کوئی محال لازم نہ آئے تو وہ محال نہیں یعنی نبی کا آناپھر محال نہ رہا اور یہ عقیدہ بجائے خود کفر ہے ۔۔۔لو حرف شرط ہے اور دو جملوں پر آتا ہے اور بہ سبب نفی جملہ اول کے نفی جملہ ثانیہ پر دلالت کرتا ہے اور زمانہ ماضی کا جیسے لوکان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا یعنی نہ اور خدا تھے نہ زمین و آسمان برباد ہوئے اب نانوتوی صاحب کا جملہ دیکھئے ’’اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی ﷺ کوئی نبی پیدا ہوتو پھر بھی خاتمیت محمدی (مرتبی )میں کچھ فرق نہیں آئے گا‘‘۔ یہ دو جملے اوپر بتائے گئے قاعدے کلیے کے مطابق درست نہیں ان جملوں میں جملہ اول نفی کا جملہ بنتاہی نہیں اگر بالفرض (یعنی لو)بہ سبب نفی جملہ اول کے ، نفی جملہ ثانی پر دلالت نہیں کرتا یا نفی ثانی کی بناء پر نفی اول نہیں دیکھئے اگر یوں لکھے:’’نہ کوئی نبی آیا ،نہ خاتمیت مرتبی میں فرق پڑا‘‘ اس طرح نفی جملہ اول نے نفی جملہ ثانی پر دلالت کی مگر پرستان تحذیر الناس کہتے ہیں کہ نبی آبھی جائے تب بھی خاتمیت مرتبی میں فرق نہیں پڑتا اس طرح نفی جملہ اول کا نفی جملہ ثانی پر دلالت کا کلیہ فٹ نہیں بیٹھتا لہذا معلوم ہواکہ جملے کی ترکیب اور معنوی ساخت ہی غلط ہے اور طعنے ہمیں دئے جارہے ہیں ‘‘۔(ختم نبوت اور تحذیر الناس ،ص271,272)
جواب : یہ بھی ان دونوں حضرات کی جہالت ہے اس لئے کہ ہم ماقبل میں بریلوی اکابر کے حوالے ہی سے ثابت کرچکے ہیں کہ بالفرض آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آجائے تب بھی آپ ﷺ کی ختم نبوت مرتبی میں کوئی فرق نہیں آئے گا مگر یہ جاہل یہی رٹ لگارہے ہیں کہ نہیں فرق آئے گا مولانا نانوتوی ؒ کی تو عبارت ہی غلط ہے ملا علی قاری حنفی ؒ لکھتے ہیں :
لو عاش ابراہیم و صارا نبیا وکذا لو صار عمرنبیا لکانا من اتباعہ علیہ السلام (موضوعات کبری ،ص192)
اگر آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیمؓ زندہ رہتے اور نبی ہوجاتے اسی طرح اگر حضرت عمرؓ نبی ہوجاتے تو دونوں آپ کے پیروکاروں سے ہوتے۔
ان حضرات کے اصول کے مطابق یہ عبارت غلط بلکہ کفر ہے کیونکہ ملا علی قاری یہی کہہ رہے ہیں کہ ان حضرات کے آنے سے بھی آپ ﷺ کی ختم نبوت مرتبی پر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ آپ ہی کے تابع اور آپ ﷺ کی نبوت کے واسطے سے ہوتے جو حضرات حضرت نانوتوی ؒ کی عبارت کو غلط کہہ رہے ہیں وہ ملا علی قاری ؒ کے بارے میں بھی کوئی فیصلہ صادر کریں۔
پھر آپ کا یہ کہنا بھی سراسر سینہ زوری ہے کہ اگر نبی آجائے تو آپ ﷺ کی نبوت پر فرق پڑے گا مگر نانوتوی صاحب اس کا انکار کررہے ہیں اس لئے کہ حضرت نانوتوی یہاں سرے سے ختم نبوت زمانی کی بات ہی نہیں کررہے ہیں جو فرق آنے یا نہ آنے کا سوال ہو وہ تو یہ قضیہ فرضیہ ’’ختم نبوت رتبی‘‘ کے متعلق لکھ رہے ہیں کہ اس صورت میں بھی آپ ﷺ کی ختم نبوت رتبی ‘‘ میں کوئی فرق نہیں پڑے گا اس لئے کہ اس نئے نبی کی نبوت بھی آپ ہی اسے مستفاد ہوگی۔فافھم۔
بریلویوں کے دادا امام مولوی نقی علی خان صاحب لکھتے ہیں:
’’اس آیت یہ بات بخوبی ثابت ہوتی ہے کہ آپ منصب نبوت میں اصل اصول ہیں ۔اگر اور پیغمبر آپ کا زمانہ پاتے آپ پر ایمان لاتے اور تصدیق اور تائید آپ کی کرتے‘‘۔(سرور القلوب ؛ ص 226 شبیر برادرز)
اب بتائے جب اور پیغمبر آپ کے زمانہ پاتے تو کیا اس صورت میں آپ کی ختم نبوت میں فرق آتا؟ظاہر ہے کے نہیں لیکن یہ ختم نبوت مرتبی کا بیان ہوگا کہ آپ ختم نبوت میں اصلِ اصول ٹھرے آپ اس وقت سے منصب نبوت میں اصل الاصول ہیں جب ابھی آدم علیہ السلام میں روح و جسد کا علاقہ بھی قائم نہ ہوا تھا ۔بایں ہمہ سب انبیاء پیدا ہوتے رہے اور کسی کا آنا آپ کی اس ختم نبوت مرتبی کو نہ توڑ سکا پھر جب آپ بالفعل یہاں تشریف لائے تو آپ کی ختم نبوت ذاتی بھی ساتھ قائم ہوگئی اب ایمان کیلئے ختم نبوت ذاتی اور زمانی دونوں کا تسلیم کرنا لازم ہوا۔مولوی نقی علی خان صاحب نے اگر کے لفظ کے ساتھ قضیہ شرطیہ بیان کیا جس کیلئے تحقق ضروری نہیں یہی بات حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے کی ۔
مگر ان تمام حضرات کی عبارات کو چھوڑ کر صرف حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت پر معاذاللہ کفر کا فتوی لگانا اگر مولوی احمد رضاخان کے ایصال ثواب کیلئے نہیں تو کیا انگریزوں کے کھاتے میں ڈالنے کیلئے تھا؟
نیزاگر یہ حضرات اپنے مطالعہ کو وسعت دیتے تو ان کے علم میں ہوتا کہ قضیہ شرطیہ کبھی اس وقت بھی صادق ہوجاتا ہے جب مقدم کاذب ہو تالی صادق ہو اس کی مثال یوں دیتے ہیں ان کان زید حمارا کان حیوانا (قطبی ،ص113)اگر زید حمار ہوتو حیوان ہو۔زید ایک انسان ہے اس کا حمار ہونا جھوٹ ہے لیکن بصورت حمار ہونے کے اس کا جانداز ہونا لازم ہے اگرچہ جاندار وہ پہلے سے ہے۔اسی طرح سمجھو آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آجائے یہ جھوٹ ہے کیونکہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں خاتمیت زمانی باقی نہیں رہے گی لیکن بالفرض آبھی جائے تو آپ ﷺ کی ختم نبوت رتبی میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔پس جس طرح قطبی کی مثال میں مقدم کاذب تالی صادق اسی طرح حضرت نانوتوی ؒ کی عبارت میں مقدم کاذب او ر تالی صادق ہے۔مگر ان جہلاء کے نزدیک تو خیر سے ان جملوں کی معنوی ساخت ہی غلط ہے۔
نیزجس کو آپ قاعدہ کلیہ کہہ رہے ہیں علماء نحو و بلاغت نے اس کے قاعدہ کلیہ ہونے پر سخت تنقید کی ہے (دیکھو عقود الجمان مع االشرح ،ص131,132،حاشیۃ الخضری علی شرح ابن عقیل ،ج2،ص127,128)ملا جامی حرف لو کا ایک استعمال یہ بتاتے ہیں کہ اس سے کسی چیز کے اسمترار و دوام کو بیان کرنا مقصود ہوتا ہے پھر مثال دیتے ہیں لو اھاننی ؛لاکرمتہ اگر وہ میری توہین کرتا تو میں اس کی عزت کرنا ۔ جب دوسرے کی طرف سے توہین کے باوجود ادھر سے عزت ہے تو ادھر سے عزت ہو تو عزت کیوں نہ ہوگی (شرح جامی ،ص397) اسی طرح سمجھو کہ اگر بالفرض خاتمیت زمانی نہ ہوتی تب بھی آپ کیلئے خاتمیت رتبی پائی جاتی اور جب آپ کیلئے خاتمیت زمانی ثابت ہے تو دلالۃ النص کے طور پر خاتمیت رتبی بدرجہ اولی پائی گئی۔
علامہ ابن ہمشام نے مغنی اللبیب عن کتاب الاعاریب ،ص257تا264پرلو کے معنی پر بڑی تفصیلی بحث کی ہے اور اس کی تصریح کی ہے کہ لو شرط اور جواب دونوں کے امتناع کیلئے آتا ہے مگر کہیں یہ قاعدہ باطل ٹھراتا ہے پھر اس پر کئی مثالیں دی ہیں ہم صرف ایک آیت نقل کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں :
وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَا اِلَیْھِمُ الْمَلَاءِکَۃَ وَ کَلَّمَھُمُ الْمَوْتٰی وَ حَشَرْنَا عَلَیْہِمْ کُلَّ شَیْءٍ قُبُلاً مَّاکَانُوْا لِیُوْمِنُوْا اِلاَّ اَنْ یَّشَا ءَ اللّٰہُ وَلٰکِنَّ اَکْثَرھُمْ یَجْھَلُوْنَ (الانعام 111)
اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ہم ہر چیز ان کے سامنے اٹھالیتے جب بھی وہ ایمان لانے والے نہ تھے مگر یہ کہ خدا چاہتا لیکن ان میں بہت نرے جاہل ہیں (کنز الایمان )
اس آیت کا معنی تو یہی ہے کہ اگر ان کفار کے مطلوبہ معجزات دکھا بھی دئے جاتے تو یہ تب بھی ایمان نہ لاتے الا یہ کہ اللہ چاہے۔اور جب انہوں نے مطلوبہ معجزات نہ دیکھے تو دلالۃ النص کے طور پر بدرجہ اولی ایمان نہ لائے مگر تبسم شاہ کے قاعدے کے مطابق اس کا معنی یہ بنتا ہے کہ ان کفار کے سامنے یہ معجزات ظاہر نہ ہوئے اور وہ ایمان لے آئے ۔کیونکہ حضر ت صاحب کا قاعدہ کلیہ تو یہ تھا :
’’لو حرف شرط ہے اور دو جملوں پر آتا ہے اور بہ سبب نفی جملہ اول کے نفی جملہ ثانیہ پر دلالت کرتا ہے اور زمانہ ماضی کا ‘‘

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔