جمعرات، 9 جون، 2016

اعتراض 44:رحمۃ للعالمین ہونا حضور ﷺ کی صفت خاصہ نہیں ۔نعوذباللہ


ماخوذ از دفاع اہل السنۃ والجماعۃ مولفہ مولنا ساجد خان صاحب نقشبندی
اعتراض 44:رحمۃ للعالمین ہونا حضور ﷺ کی صفت خاصہ نہیں ۔نعوذباللہ
مولوی رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں کہ:
لفظ رحمۃ للعالمین صفت خاصہ رسول اللہ ﷺ کی نہیں ہے ۔(فتاوی رشیدیہ ،ص218)اس مولوی رشیدہ (اصل کتاب میں یونہی لکھا ہوا ہے اگر اس کے جواب میں ہم احمد رضاخان کو ’’رضیہ خاتم ‘‘ لکھ دیں تو ان کو ناراض نہ ہونا چاہئے ۔از ناقل)احمد گنگوہی نے اپنے مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کو رحمۃ للعالمین قرار دیا‘‘۔ (اضافات الیومیہ ،ص161 ، ج1،اشرف السوانح ،ج3،ص155)۔
(دیوبندیت کے بطلان کا انکشاف،ص74،دیوبندی مذہب،ص184،دیوبند سے بریلی ،ص33،الحق المبین ،ص65)
الجواب:چونکہ یہ اعتراض بھی رضاخانیوں کا ایک مایہ ناز اعتراض ہے اس لئے اس کے متعلق کچھ مزید فتاوی جات بھی ہم نقل کردیتے ہیں تاکہ آگے بریلوی اکابر کے حوالہ جات آئیں تو ٹھوک کے یہ فتوے ان کی قبور پر جاکر لگیں ۔مولوی عمر اچھروی لکھتا ہے :
’’نبی پاک ﷺ کو اللہ پاک نے تمام عالمین کیلئے رحمت بناکر بھیجا اب اور کون سے عالمین ہیں جن کے یہ بھی رحمت بن سکتے ہیں جیسا کہ رب العالمین کہنے کے بعد تمام عالمین میں کسی دوسرے رب کی ضرورت نہیں اگر کوئی مانے تو اس نے شرک فی التوحید کیا ہے ایسے ہی رحمۃ للعالمین کے اقرار کے بعد کوئی عالمین کی رحمت نہیں کہلاسکتا اور اگر کوئی تسلیم کرے تو شرک فی الرسالت ہوگا‘‘۔ (مقیاس حنفیت ،ص199,198)
اور مولوی حسن علی رضوی لکھتا ہے :
’’حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی عظمت اور رفعت شان کو گھٹا کر حضور پاک ﷺ کے ایک عظیم و جلیل صفت پر ڈاکہ مارنا مقصود تھا‘‘۔ ( محاسبہ دیوبندیت ،ج1،ص198)
ظفر الدین بہاری لکھتا ہے :
’’حضور ﷺ کی اس صفت رحمۃ للعالمین میں سب ملاؤں کو شریک کردیا انا للہ و انا الیہ راجعون پھر سید العالمین کیوں کر مان سکتے ہیں ‘‘۔ ( حیات اعلی حضرت ،ج2ص)
مولوی صدیق نقشبندی رضاخانی فتاوی رشیدیہ اور اشرف السوانح کی ان عبارات پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے :
’’گویا رشید احمد گنگوہی نے مرزا صاحب کیلئے راستہ ہموار کردیا اور اس نے حضور کے اس وصف خاص پر ڈاکہ زنی کی کوشش کی اور اس کو یہ جسات صرف گنگوہی کی فتوے سے ہوئی اور کسی کو جرم پر ابھارنے اور برانگیختہ کرنے والا بھی مجرم ہوتا ہے لہذا اگر رشید احمد گنگوہی مصنف اشرف السوانح اور مرزا غلام احمد قادیانی کو عدالت کے ایک ہی کٹہرے میں کھڑا کرکے مجرم ثابت کیا جائے تو کیا دیوبندیوں کے تن بدن کو آگ تو نہیں لگ جائے گی ؟ذرا سنبھل کر جواب دیں بدحواسی میں اکثرغلطیاں ہوجایا کرتی ہیں ‘‘۔
(باطل اپنے آئینہ میں ،ص17)
الجواب:یہ اہل بدعت کا طریق ہے کہ وہ اہل السنت والجماعت کو بدنام کرنے کیلئے چھوٹے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔ فتاویٰ رشیدیہ قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کے فتاوٰی جات ہیں ۔ یہ بات حضرت گنگوہی ؒ پر صریح بہتان ہے کہ انہوں نے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو رحمۃ للعالمین ماننے سے انکار کیا ہے ۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ فتاوی رشیدیہ جلد 2 ص9 پر سائل نے پوچھا تھا کہ ’’ رحمۃ للعالمین ہونا آپﷺ کے ساتھ ہی خاص ہے یا کسی اور کو بھی کہہ سکتے ہیں ‘‘ ۔ تو حضرت نے جواب دیا کہ ’’ لفظ رحمۃ للعالمین صفت خاصہ رسول اللہ ﷺ کی نہیں ہے بلکہ دیگر اولیاء وانبیاء و علماء ربانین بھی موجب رحمت عالم ہوتے ہیں اگرچہ جناب رسول اللہ ﷺ سب میں اعلیٰ ہیں لہٰذا اگر دوسرے پر اس لفظ کو بتاویل بول دیوے تو جائز ہے ۔ یعنی دوسرے لوگ بھی رحمت ہوسکتے ہیں گو سب سے اعلیٰ درجہ میں یہ صفت حبیب رب العالمین ﷺ میں ہے ‘‘۔ اس جواب کی مزید تشریح سمجھئے ۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے ۔
وما ار سلناک الا رحمۃ اللعالمین ۔
قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ میں اللہ جل شانہ نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اے حبیب ! آپ ﷺ کو ہم نے تمام جہاں والوں کیلئے صرف رحمت ہی بناکر بھیجا ہے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ صرف آپ ہی کو رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا ہے ان دونوں میں کیا فرق ہے ۔ اس کو سمجھئے ۔ کسی شے کو کسی شئے کے ساتھ خاص کرنے کو علم معانی کی اصطلاح میں قصر کہتے ہیں ۔ چنا نچہ مختصر المعانی میں قصر کی تعریف یوں ہے ’’ تخصیص شیء بشیء بطریق مخصوص‘‘(ص182) ۔ پھر اس قصر کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک ہے قصر صفت علی الموصوف اور دوسری قسم ہے قصر موصوف علی الصفۃ۔
قصر صفت علی الموصوف کہتے ہیں صفت کو بند کرنا موصوف میں ۔ ’’ ھو ان لایتجاوز تلک الصفۃ عن ذلک الموصوف الی آخر لکن یجوز ان یکون لذلک الموصوف صفات اخر ‘‘ قصر صفت علی الموصوف سے مرادہے کہ وہ صفت اس موصوف سے دوسرے موصوف میں تجاوزنہ کرے لیکن اس موصوف کیلئے دوسری صفات ہوسکتی ہیں ۔
مثلاً عربی میں کہا جائے کہ ماقائم الا زید ( نہیں ہے کھڑا ہوا مگر زید ) یعنی صرف زید ہی کھڑا ہوا ہے کوئی اور نہیں ۔ یہاں کھڑے ہونے کی صفت کو زید میں بند کیا گیا ہے ۔ اسی طرح کہا جائے کہ لا فارس الا بکر ( نہیں ہے کوئی گھڑ سوار مگر بکر ) یعنی صرف بکر ہی گھڑ سوار ہے کوئی دوسرا نہیں ) ۔
دوسری قسم ہوتی ہے قصر موصوف علی الصفۃ’’ وھو ان لا یتجاوز الموصوف من تلک الصفۃ الی صفۃ اخری لکن یجوز ان تکون تلک الصفۃ لموصف آخر ‘‘قصر موصوف علی الصفۃ یہ ہے کہ موصوف اس صفت سے دوسری صفت میں تجاوز نہ کرے لیکن وہ صفت دوسرے موصوف کے لئے ہونا جائز ہو ۔ مثلا مازید الاقائم ( نہیں ہے زید مگر کھڑا ہوا یعنی زید صرف کھڑا ہی ہے بیٹھا ہوا نہیں ۔ اسی طرح ما بکر الا فارس ( نہیں بکر مگر گھڑ سوار یعنی بکر صرف گھڑ سوارہی ہے ۔ آسان لفظوں میں اگر کوئی ماں کہے کہ صرف میرا بیٹا حسین ہے تو اس کو کہتے ہیں قصر صفت علی الموصوف اور اگر وہ کہے کہ میرا بیٹا صرف حسین ہی ہے تو اس کو قصر موصوف علی الصفت کہتے ہیں اس قسم میں یہ صفت دوسروں میں بھی ہوسکتی ہے ۔
ایک اور مثال دیکھیں اگر کہاجائے ما محمد ﷺ الا رسول تو صحیح ترجمہ یہ ہے کہ محمد ﷺ صرف رسول ہی ہیں ۔ یعنی محمد ﷺ رسول ہی ہیں خدا نہیں ۔ ( قصر موصوف علی الصفۃ ) اور کہا جائے لا خاتم الا محمد ﷺ تو ترجمہ ہوگا ( نہیں ہے کوئی خاتم مگر محمد ﷺ یعنی صرف آپ ہی خاتم ہیں آپ کے علاوہ کوئی اور خاتم النبین نہیں) ۔ ( قصر صفت علی الموصوف ) اب دیکھیں قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے آپ ﷺ کو نہیں بھیجا مگر رحمۃ للعالمین یعنی آپ ﷺ کی شان صرف رحمت ہی رحمت ہے سارے جہاں والوں کے لیے ۔ یہ نہیں فرمایا ( نہیں ہے کوئی رحمۃ للعالمین مگر آپ ﷺ ) ۔ یوں کہیے کہ اس آیت مبارکہ میں قصر موصوف علی الصفۃ ہے نہ کہ قصر صفت علی الموصوف اور ماقبل میں گزرچکا ہے کہ ’’ قصر موصوف علی الصفۃ ‘‘ میں وہ صفت دوسرے موصوف میں ہوسکتی ہے ۔
یہی بات حضرت گنگوہی ؒ نے بیان کی ہے مگر ادباً کہا کہ دوسروں کو براہ راست حمۃ اللعالمین نہ کہا جائے بلکہ تاویلاً بولا جائے ۔ چنانچہ مفتی غلام سرور قادری بریلوی اس آیت کا ترجمہ کرتے ہیں ( اور ہم نے تمہیں سارے جہانوں کیلئے سراسر مہربانی ہی بنا کر بھیجا )۔
پیر کرم شاہ لکھتے ہیں ( اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر سراپا رحمت بنا کر ) اب ہم قرآن و حدیث اور اکابر کے اقوال پیش کرتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ رحمۃ للعالمین مختلف لوگوں کے لئے بولا گیا ہے ۔ خود اللہ جل شانہ نے قرآن کو رحمۃ للمومنین کہا ہے ارشاد ربانی ہے ’’ وننزل من القرآن ما ھو شفاء ورحمۃ للمومنین ‘‘ مومین صرف اس عالم میں ہی نہیں بلکہ عالم جنات میں بھی مومن ہیں تو قرآن ہر عالم میں بسنے والے مومنوں کیلئے رحمت ہے یوں کہیے کہ بواسطہ مؤ منین قرآن بھی رحمت ہے ہرہر عالم کیلئے یعنی رحمۃ للعالمین ۔ ( سورۃ بنی اسرائیل )
بخاری شریف میں ایک روایت میں طاعون کو رحمۃ للمؤمنین کہا گیا ہے ۔ ( بخاری جلد ۲)
اسی طرح شیخ سعدی ؒ نے بوستان میں حاکم وقت کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے ۔
توئی سایہ لطف حق بر زمین
پیمبر صفت رحمۃ للعالمین
(بوستان ص115 ،فاروقی کتبخانہ ملتان )
حضرت مجدد الف ثانی ؒ لکھتے ہیں انبیاء علیھم الصلوات التسلیمات رحمت عالیما نند کہ حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ ایشانرابرائے ہدایت خلق مبعوث ساختہ است۔(دفتر سوم مکتوب ۱۷)
انبیائے علیھم الصلوات والتسلیمات رحمت للعالمین ہوتے ہیں کہ جن کو حق تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کیلئے بھیجا ہے ۔
حضرت خواجہ فرید الدین مسعو گنج شکر ؒ راحت القلوب میں صالحین کی صحبت کے بارے میں حدیث مبارکہ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ صحبۃ الصالحین نور ورحمۃ للعالمین ‘‘ دیکھئے یہاں پر صالحین کی صحبت کو رحمۃ للعالمین کہا گیا ہے
مولانا روم ؒ اپنی مثنوی میں فرماتے ہیں
جملہ دانیان ہمیں گفتہ ہمیں
ہست دانا رحمۃ للعالمین
( تمام سمجھداروں نے یہی کہا ہے کہ عقل مند دونوں جہاں کیلئے رحمت ہے ) ( مثنوی دفتر اول ص105 )
ایک اور جگہ اپنے خلیفہ حسام الدین کی تعریف میں شعر لکھتے ہوئے اس کو سورج سے تشبیہ دیتے ہیں پھر مزید آگے لکھتے ہیں
نتا کہ نورش کامل آید د ر زمین
تاجراں را رحمۃ للعالمین
یہاں تک کہ اس ( سورج ) کی مکمل روشنی زمین پر آتی ہے تاجروں کیلئے رحمۃ للعالمین بن کر ۔
( مثنوی دفترچہارم ص19 )
حضرت شاہ ابو المعالی اپنی کتاب تحفۃ القادریہ میں پیرانِ پیر کی تعریف میں یہ شعر درج فرماتے ہیں ۔
شاہ گیلانی ترا حق در وجود
رحمۃ للعالمین آوردہ است
شاہ گیلانی آپ کو حق تعالیٰ رحمۃ للعالمین کے وجود میں لایا ہے ۔ ( تحفہ قادریہ ص 49 اردو )
اسی طرح علامہ ابن حزم نے احکام کو رحمۃ للعالمین قرار دیا ہے ( الاحکام فی اصول القرآن ص350 جز1 )
احکام للامدی میں بھی احکامات کو رحمۃ للعالمین کہا گیا ہے ۔ ان کی اصل عبارت یہ ہے :فان الاحکام مما جاء بھا الرسول فکانت رحمۃ للعالمین ( الاحکام للامدی ص 358، جز 3، الاصل الخامس فی القیاس ،الفصل الثامن ،دارالصمیعی الریاض)
نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اور مرید خاص حضرت امیر حسن علی سنجری رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول پیش کررہے ہیں کہ وہ اپنی کتاب ’’فوائد الفواد‘‘ میں حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات کو جمع کرتے ہیں تو مقدمے میں ان کیلئے رحمۃ للعالمین کا لفظ استعمال کرتے ہیں:
خواجہ راستین المقلب بہ رحمۃ للعالمین ملک الفقراء والمساکین شیخ نظام الحق و الشرع ۔۔الخ
(ہشت بہشت ص 689،فوائد الفواد ،مجلس۱)
ہم پوچھنا چاہتے ہیں بریلوی مفتیان کرام سے کہ ا ن جیسے اولیاء اور محبوبان خدا کے بارے میں ا ن کا کیا فتوی ہے کیا یہ بھی معاذاللہ گستاخان رسول ﷺ ہیں۔۔؟؟جواب دیجئے اب خاموشی کس بات کی۔
ان حوالہ جات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر رحمۃ للعالمین صرف آپ ﷺ ہی کی صفت ہوتی تو یہ حضرات دیگر پر اس صفت کا اطلاق نہ کرتے ۔ اب بریلوی حضرات کے بزرگوں کے حوالے دیکھئے ( بشکر یہ مولانا ابو ایوب صاحب )
۱۔ پیر جماعت علی شاہ صاحب نے خواجہ یعقوب ؒ اور خواجہ محمد سرہندی ؒ کے متعلق کہا ’’ یہ مقبولان بارگاہ ایزدی رحمۃ للعالمینی کی شان میں جلوہ گر تھے ۔ ( سیرۃ امیر ملت ص 609)
۲۔ محمد یار گڑھی بریلوی اپنے دیوان محمد میں اپنے پیر کے بارے میں لکھتا ہے کہ
برائے چشم بینا از مدینہ بر سر ملتان
بہ شکل صد ر دیں خود رحمۃ للعالمین آمد
دیکھنے والی آنکھوں کیلئے مدینہ سے خود رحمۃ للعالمین صدر دیں کی شکل میں ملتان آیا ہوا ہے ۔
( دیوان محمدی ص 22 )
۳۔یہی یار گڑھی والا اپنے بارے میں لکھتا ہے :
فردم ا ز اغیار ویار ہر کسم
زانکہ ہستم رحمۃ للعالمین
(دیوان محمدی ،ص155)
یعنی میں غیروں سے علیحدہ بھی رہتا ہوں اور ہر شخص کا یار بھی ہوں کیونکہ میں خود رحمۃ للعالمین ہوں(العیاذ باللہ)
۴۔ غلام جہانیاں صاحب ہفت اقطاب میں خواجہ نظام الحق محمد بن احمد بخاری کو رحمۃ للعالمین لکھتے ہیں ’’ الٰہی بحرمۃ شیخ المشائخ سلطان العاشقین رحمۃ للعالمین محبوب الہٰی حضرت خواجہ نظام الحق والدین محمد بن احمد بخاری ‘‘ ( ہفت اقطاب ص70 )
۵۔ ابو العلائی اپنے پیر کے پیر کیلئے رحمۃ للعالمین کالفظ استعمال کرتے ہیں ’’ آپ کا دوسرا کام رحمۃ للعالمینی امت کے لئے پیغام عام بذریعہ پیری مریدی ‘‘۔ ( چراغ ابوالعلائی ص 131)
۶۔ مفتی غلام سرور قادری بریلوی صاحب نے اپنے ترجمۃ القرآن (عمدۃ البیان ) کے مقدمے میں علامہ اقبال کایہ شعر نقل کیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ مفتی صاحب اس شعر سے متفق ہیں ۔
نوع انساں را پیام آخریں
حامل اور رحمۃ للعالمین
انسانوں کیلئے قرآن آخری پیغام ہے اس کے حامل رحمۃ للعالمین ۔ ( ص1 مقدمہ عمدۃ البیان )
۷۔ ہم اپنی اس گفتگو کے اختتام پر بریلویوں کے امام جناب احمد رضا خان صاحب کے والد مولوی نقی علی کی کتاب انوار جمال مصطفی یعنی الکلام الاوضح سے حوالا پیش کرتے ہیں ۔ علماء اپنے شاگردوں کے حق میں خصوصاً عوام زمانہ کے حق میں عموماً رحمت ہیں کہ تعلیم وتدریس ، وعظ و تذکیر ، امر باالمعروف و نہی عن المنکر ہیں مشغول رہتے ہیں اور پیغمبر اپنی قوم کیلئے رحمت ہیں ۔
یہی بات حضرت گنگوہی ؒ لکھ رہے ہیں کہ ( دیگر اولیاء و انبیاء و علماء ربانیین بھی موجب رحمت عالم ہوتے ہیں )۔حضرت گنگوہی ؒ اور نقی علی کی عبارت میں کم و بیش ایک ہی بات کہی گئی ہے پھر حضرت گنگوہیؒ پر فتوی لگانا اور کافر لکھنا کہاں کا انصاف ہے حضرت گنگوہی ؒ کی عبارت میں بھی موجب رحمت عالم کہا گیا ہے ناکہ موجب رحمت للعالمین ۔
ان سب حوالہ جات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ اللہ کے حبیب ﷺ سب سے اعلی درجہ میں رحمۃ للعالمین ہی جیسا کہ حضرت گنگوہی ؒ نے لکھا اور دیگر انبیاء یا اولیاء اپنے اپنے درجہ میں رحمت ہیں ۔ بریلویوں کا یہ اعتراض فقط جہالت و ضد پر مبنی ہے ۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان حضرات کو حق پہچاننے اور اس کو قبول کرنے کی توفیق دیں ۔ وما علینا الا البلاغ المبین۔
آخر میں ہم مولوی صدیق نقشبندی رضاخانی سے اسی کی زبان میں سوال کریں گے :
’’گویا شیخ سعدی ،مجدد الف ثانی ،علامہ اقبال اور مندرجہ بالا بریلوی اکابر نے معاذاللہ مرزا صاحب کیلئے راستہ ہموار کردیا اور اس نے حضور کے اس وصف خاص پر ڈاکہ زنی کی کوشش کی اور اس کو یہ جسات صرف ان علماء کی عبارات سے ہوئی اور کسی کو جرم پر ابھارنے اور برانگیختہ کرنے والا بھی مجرم ہوتا ہے لہذا اگر شیخ سعدی ،مجدد الف ثانی و دیگر (معاذاللہ) اور مرزا غلام احمد قادیانی کو عدالت کے ایک ہی کٹہرے میں کھڑا کرکے مجرم ثابت کیا جائے تو کیا رضاخانیوں کے تن بدن کو آگ تو نہیں لگ جائے گی ؟ذرا سنبھل کر جواب دیں بدحواسی میں اکثرغلطیاں ہوجایا کرتی ہیں ‘‘۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔