بدھ، 8 جون، 2016

انبیاء کرام کذب سے معصوم نہیں امام نانوتویؒ پر اعتراض کا جواب


حضرت کی کتاب دفاع اہل السنۃ والجماعۃسے ماخوذ
اعتراض41:انبیاء کرام معصوم نہیں ۔نعوذباللہ
یہ عنوان قائم کرکے رضاخانی لکھتا ہے:


مولوی قاسم نانوتوی لکھتے ہیں کہ:بالجملہ علی العموم کذب کو منافی شان نبوت بایں معنی سمجھنا کہ یہ معصیت ہے اور انبیاء علیہم السلام معاصی سے معصوم ہیں خالی غلطی سے نہیں ۔(تصفیۃ العقائد ،ص28)
(دیوبندیت کے بطلان کا انکشاف ،ص74،دیوبندی مذہب201،دیوبند سے بریلی ،ص34،الحق المبین،ص79)
ٓالجواب:دراصل تصفیۃ العقائد ان ۱۵ سوالوں کے جوابوں کا مجموعہ ہے جو سر سید احمد خان نے حضرت امام نانوتوی ؒ کی طرف بھیجے تھے جس میں انہوں نے عقائد کے متعلق اپنے بعض اشکالات پیش کئے تھے انہی میں سے ایک اشکال یہ تھا کہ:
’’تمام افعال و اقوال رسول خدا ﷺ کے سچائی تھے مصلحت وقت کی نسبت رسول کی طرف کرنی سخت بے ادبی ہے جس میں خوف کفر ہے ۔مصلحت وقت سے میری مراد وہ ہے جو عام لوگوں نے مصلحت کے معنی سمجھیں ہیں یعنی ایسا قول یا فعل کو کام میں لانا جو درحقیقت بے جا تھا مگر مصلحت وقت کا لحاظ کرکے اس کو کہہ دیا‘‘۔ (تصفیۃ العقائد ،ص7)
سر سید صاحب کے اس اشکال کا جواب حضرت نانوتوی ؒ نے کئی صفحات پر دیا جس کا خلاصہ ہم یہاں نقل کردیتے ہیں:
جھوٹ کی کئی قسمیں ہیں :
(۱) تعریضات:۔یعنی اشارہ کنایہ توریہ وغیرہ یہ سب ظاہر یا صورت کے اعتبارسے تو جھوٹ معلوم ہوتے ہیں مگر حقیقت کے اعتبار سے سچ ہوتے ہیں ۔
(۲) کذب صریح :۔ یعنی صریحا جھوٹ بولنا۔مگر اس میں بھی تفصیل ہے اگر نقصان سے خالی ہو اور اس میں نفع بھی ہو تو یہ بھی من وجہ حسنات میں داخل ہے جیساکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ آدمی جھوٹا نہیں جو آدمی میں صلح کرانے کی غرض سے کچھ کلام کراتا ہے ۔البتہ اگر کسی کو فریب ،دھوکا یا نقصان یا بے فائدہ کیلئے بولاجائے تو حرام ہے ۔
اگر بعض جگہ تعریضات سے مسئلہ حل ہوجائے تو وہاں کذب صریح جائز نہیں ۔انبیاء کرام علیہم السلام کذب صریح سے تو بالکل پاک ہیں بلکہ وہ تو اپنے حق میں تعریضا ت کو بھی پسند نہیں کرتے چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام قیامت کے دن شفاعت سے اس لئے پہلو تہی کریں گے کہ دنیا میں کچھ باتیں مجھ سے بطور توریہ صادر ہوئی ہیں اس لئے آج شفاعت سے شرم محسوس کرتا ہوں۔اس پر بڑی تفصیل کے ساتھ امام نے گفتگو کی ہے تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو تصفیۃ العقائد ،ص22,23,24۔غرض حضرت امام ؒ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ چونکہ تعریضات بھی صورۃ کذب معلوم ہوتے ہیں نیز کذب صریح بھی بعض اوقات حسنات میں داخل ہوتا ہے اس لئے اسے(تعریضات کو) انبیاء کے حق میں کفر جاننا اور علی العموم کذب کو منافی نبوت سمجھنا درست نہیں ۔لیکن یہ گفتگو بھی دیگر انبیاء علیہم السلام کی حد تک ہے نبی کریم ﷺ کے متعلق وہ صاف صریح الفاظ میں فرماتے ہیں جسے یہ رضاخانی بددیانت نقل نہیں کرتے کہ :
’’پھر دروغ صریح بھی کئی طرح پر ہوتا ہے جن میں سے ہر ایک کا حکم یکساں نہیں ہر قسم (چونکہ ایک قسم تعریض بھی ہے ۔از ناقل) سے نبی کو معصوم ہونا ضروری نہیں اگرچہ ہمارے پیغمبر ﷺ سب ہی سے محفوظ رہے ہوں ‘‘۔
( تصفیۃ العقائد ،ص29)
اب آئے کہ جھوٹ جسے حضرت نانوتوی ؒ نے کذب کہا علی العموم منافی نبوت نہیں اس پر خود اکابر بریلویہ کے حوالہ جات ملاحظہ ہوں
(۱) مفتی مظہر اللہ لکھتے ہیں:
’’صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ اچھے لوگوں کے دل میں اللہ تعالی کا خوف زیادہ ہوجاتا ہے اس لئے ظاہری صورت کے جھوٹ پر بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے تئیں ہمیشہ خطاوار سمجھ کر استغفار میں مشغول رہتے تھے‘‘۔(تفسیر مظہر القرآن ،ج2،ص975)
(۲) غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں :
’’حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا مسلمان کو جھوٹ سے بچنے کیلئے معاریض کافی ہیں ۔حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا مسلمان کو جھوٹ سے بچنے کیلئے جھوٹ میں بڑی گنجائش ہے ۔۔۔۔
آگے لکھتا ہے :
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین جھوٹ بولے۔
آگے لکھتا ہے :
اس حدیث میں جھوٹ سے مراد ظاہری جھوٹ اور حقیقت میں معاریض مراد ہیں ‘‘۔
( تبیان القرآن ،ج7،ص605)
پس حضرت امام نانوتوی ؒ نے جو فرمایا کہ کذب علی العموم منافی نبوت نہیں اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ چونکہ جھوٹ میں توریہ ، معاریض وغیرہ بھی شامل ہیں جن کا صدور انبیاء سے ہوا ہے اس لئے یہ بات منافی نبوت نہیں لیجئے انبیاء کیلئے جھوٹ یعنی کذب کا ثبوت تو خو د رضاخانیوں کے گھر سے پیش کردیا گیا ہے امید ہے کہ کچھ فتاوی یہاں بھی لگیں گے۔آئے خود نبی کریمﷺ کی زبان مبارک سے ایک جلیل القدر نبی کیلئے ’’کذب‘‘ کا لفظ دکھا دیتے ہیں:
’’لَمْ یَکْذِبْ اِبْرَاہِیْمُ النَّبِیُّ ﷺ قَطُّ اِلاَّ ثَلاَثَ کَذْبَاتٍ ثِنْتَیْنِ فِی ذَاتِ اللّٰہِ ‘‘۔ ( مسلم ،ج2،ص266)
ہوسکتا ہے کہ کوئی اشکال کرے کہ جب مقصود ’’تعریضات ‘‘ ہیں تو تعریض کو کذب میں داخل کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ تو امام نونوی اس حدیث کی روشنی میں فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے تعریضات و توریہ پر بھی کذب کا اطلاق کرنا درست ہے ۔
( شرح مسلم ،ج2،ص266)

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔