سوموار، 1 مئی، 2017

اکابردارالعلوم دیوبند پر کذب الہٰی کے بہتان کا پس منظر اور اس کی حقیقت


اکابردارالعلوم دیوبند پر کذب الہٰی کے بہتان کا پس منظر اور اس کی حقیقت
ساجد خان نقشبندی

بریلوی مذہب کے علامہ عبد الحکیم شرف قادری لکھتے ہیں:۔


مولوی محمد اسماعیل (شہیدؒ ) نے تقویۃ الایمان میں لکھ دیا کہ: اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکم کن سے چاہے تو کرڑوں نبی ولی و جن و فرشتے جبرئیل اور محمد کے برابر پیدا کر ڈالے، اس پر علامہ فضل حق خیرآبادی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سر کاردوعالم کی تمام صفات کاملہ میں مثل اور نظیر محال ہے ۔ امام احمد رضا بریلوی اس پس منظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں آپ کویا د ہو کہ اصل بات کا ہے پر چھڑی تھی ؟ذکر یہ تھا کہ حضور پر نور سید المرسلین ، خا تم النبیین ، اکرا م الاولین والآخرین کا مثل و ہمسر ، حضور کی جملہ صفات کمالیہ میں شریک برابر محال ہے ، کہ اللہ تعالیٰ حضور کو خاتم النبیین فرماتا ہے ، اور ختم نبوت ناقابل شرکت تو امکان مثل مستلزم کذب الٰہی اور کذب الٰہی محال عقلی۔(ماخوذ:تقدیس الوہیت ص۱۱)
قارئین! بات صر ف قدرت کی تھی مگر ان لوگوں نے قدرت کی بحث کوغلط رنگ دے کر کذ ب الٰہی کی بحث کیوں چھیڑدی ؟حالانکہ شاہ اسماعیل شہیدؒ کی عبارت میں کذب الٰہی کا نہ کوئی لفظ ہے اور نہ کوئی شوشہ ،اصل بات یہ ہے کہ صرف قدرت پر بحث کرنے سے ان لوگوں کو کچھ ہاتھ نہیں آ تا تھا ،عوام کو گمراہ کرنے کیلئے کذب الٰہی کا مسئلہ کھڑا کردیا یعنی انہوں نے قدرت کو کذب الٰہی کے رنگ میں بدل دیا تاکہ جب فریق مخالف اپنے دعوے میں جو دلائل دے تو ان کا توڑ کرنے کیلئے یہ شور مچا یا جائے کہ دیکھو یہ لوگ کذ ب الٰہی کے قائل ہیں ،پھر ایسا ہی ہوا ، جس کی کچھ تفصیل زیر نظر باب میں ہے۔ خیا ل رہے کہ شاہ صاحب شہید کی شہادت کے ساٹھ ، ستر برس بعد جناب احمد رضاخاں بریلوی کے ایک خاص ساتھی جناب مولوی عبد السمیع رامپوری نے بدعات کی تائید میں ایک کتاب ’’انوار ساطعہ‘‘تحریر فرمائی اس میں وہ شاہ اسماعیل شہیدؒ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: کوئی جناب باری تعالیٰ کو امکان کذب کا دھبہ لگاتا ہے ۔انتہیٰ۔ اس کتاب ’’انوار ساطعہ‘‘کے رَدْ یعنی جواب میں جناب مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری نے’’ براہین قاطعہ‘‘ تحریرفرمائی ، اس میں وہ شاہ اسماعیل شہیدؒ کی طرف سے جواب میں لکھتے ہیں: ’’مسئلہ خُلْف وعیدقدماء میں مختلف فیہ ہے امکان کذب کا مسئلہ تو اب جدید کسی نے نہیں نکالا بلکہ قُدماء میں اختلاف ہوا کہ خلف وعید (یعنی جہنم کی سزا کے خلاف کرنا اللہ تعالیٰ کے لئے )آیا جائز ہے کہ نہیں ...........اس پر طعن کرنا پہلے مشائخ پر طعن کرنا ہے .......امکان کذب کہ خلف وعید کی فرع ہے جو قدماء (یعنی پہلے مشائخ) میں مختلف فیہ ہوچکا ہے (تفصیل آگے آرہی ہے ) پس جناب احمد رضاخاں بریلوی کو ا س مذکورہ بالاعبارت پر ایسا طیش آیا کہ وہ حرمین شریفین جاپہنچے اور وہاں سے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کے خلاف کذب الٰہی کے قائل ہونے کے الزام پر کفر کا فتویٰ اس لئے حاصل کیا کہ حضرت گنگوہی نے اس کتاب کی تصدیق فرمائی جس میں مذکورہ بالاعبارت ہے اور فتویٰ کی عبارت خود گھڑی کیونکہ مذکورہ بالاعبارت پر کفر کا فتویٰ حاصل نہیں ہوسکتا تھا ۔ بریلوی جماعت کے امام احمد رضا خاں بریلوی لکھتے ہیں: خُلْف بایں معنی کہ متکلم (بات کرنے والا) ایک بات کہہ کر پلٹ جائے اور جو خبر دی اس کے خلاف عمل میں لائے بلاشبہ اقسام کذب سے ہے کہ کذب نہیں۔(ماخوذ۔ سبحان السبوح۔ ص:۹۷) قارئین! احمد رضا خاں بریلوی فرما رہے ہیں کہ: ’’بات کرنے والا ایک بات کہہ کر پلٹ جائے اور جو خبر دی اس کے خلاف عمل میں لائے بلاشبہ اقسام کذب ہے کہ کذب نہیں‘‘۔ تو کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو خبر دی ہے وہ اس کے خلاف کرنے پر قادر ہے یا نہیں؟ مثلاً ایک ضروری وضاحت قرآن مجید میں ہے: ان اللّٰہ لایغفران یشرک بہ ۔(النساء :۴۸)یقیناًاللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا ۔ یعنی اللہ تعالیٰ مشرک کو نہیں بخشے گا ، یہ ایک سزا کی خبر ہے جس کو وعیدبھی کہتے ہیں ، لیکن کیا اللہ تعالیٰ اپنی خبر کے خلاف کرتے ہوئے کسی مشرک کو بخش سکتا ہے ؟اگر بخش دے تو یہ خلاف واقع بات ہوئی جسکا دوسرا نام کذب ہے جیسا کہ احمد رضا خاں فرماتے ہیں: ’’بات کرنے والا ایک بات کہہ کر پلٹ جائے اور جو خبر دی اس کے خلاف عمل میں لائے بلاشبہ اقسام کذب ہے کہ کذب نہیں‘‘۔ اور حضرت گنگوہی ؒ فرماتے ہیں: یہ عقیدہ اہل ایمان کاسب کا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مثل فرعون وہامان وابی لہب کو قرآن میں جہنمی ہونے کا ارشاد فرمایا ہے وہ حکم قطعی ہے اس کے خلاف ہرگز ہر گز نہ کریگا ، مگر وہ قادر ہے اس بات پر کہ ان کو جنت دیدیوے ، عاجز بے بس نہیں ہوگیا قادر ہے اگرچہ اپنے اختیار سے نہ کرے گا۔اور جیسا کہ علامہ سعیدی کی تحریر میں ہے۔
قارئین!
یہی وہ کذب ہے جس کی وجہ سے علماء دیوبند کو بدنام کیا جا رہا ہے ، اور اس کو خلف وعید کہتے ہیں جس کو آپ آگے تفصیلاً پڑھنے والے ہیں۔ (حضرت گنگوہیؒ کی عبارت کی تصدیق بریلوی مذہب سے ) بریلوی مذہب کے علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں؛ ’’نیز اہل سنت (گروہوں ) کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب نہیں ہے ، تمام جہان اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور دنیا وآخرت میں اس کی سلطنت ہے وہ جو چاہے کرے ، اگر تمام اطاعت (ونیکی) کرنے والوں اور صالحین کو دوزخ میں ڈال دے تو یہ اس کا عدل ہوگا ، اور جب وہ ان پر اکرام او راحسا ن کریگا اور ان کو جنت میں داخل کریگا تو یہ اس کا فضل ہوگا اور اگر وہ کافروں پر اکرام کرے اور ان کو جنت میں داخل کردے ، تو وہ اس کا بھی مالک ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ایسا نہیں کریگا اور اس کی خبر صادق ہے اور اس خبر کا کاذب ہونا محال ہے ، اس کے برعکس معتزلہ کہتے ہیں کہ احکام تکلیفیہ عقل سے ثابت ہیں اور نیک اعمال کا اجر و ثواب دینا (اللہ پر ۔اقبال) واجب ہے البتہ بعض آیتیں بظاہر معتزلہ کی موید (مددگار) ہیں۔‘‘ (ماخوذ:تبیان القرآن ۳؍۴۱۰مصنف علامہ سعیدی)
قارئین! علامہ سعیدی فرماتے ہیں’’اگر وہ (اللہ) کافروں پر اکرام کرنے اور (اپنے عذاب کی خبر کے خلاف کرتے ہوئے۔ اقبال) ان کو جنت میں داخل کر دے، تو وہ اس کا بھی مالک ہے۔ اور احمد رضا خاں بریلوی فرماتے ہیں: ’’بات کرنے والا ایک بات کہہ کر پلٹ جائے اور جو خبر دی اس کے خلاف عمل میں لائے بلاشبہ اقسام کذب ہے کہ کذب نہیں‘‘۔ فیصلہ فرمائیں کہ احمد رضا خاں بریلوی اور علامہ غلام رسول سعیدی کی تحریروں میں کیا فرق ہے؟ (حضرت گنگوہی ؒ کی عبارت کی تصدیق امام رازی کی عبارت سے ) تفسیر کبیرمیں ہے ؛۔ ثم قال تعالیٰ ان تعذبہم فانہم عبادک وان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم * (پ۷ المائدہ :۱۱۸) (ترجمہ:اگر تو عذاب دے انہیں تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو بخش دے ان کو توبلاشبہ تو ہی سب پر غالب اوربڑا داتاہے۔ ۱۱۸) المسالۃ الأول: معنیٰ الآیۃ ظاہر وفیہ سوال وھوانہ کیف جاز لعیسٰی علیہ السلام ان یقول (وان تغفرلہم )واللہ لا یغفرالشرک ۔والجواب عنہ من وجوہ الثانی أنہ یجوز علی مذہبنا من اللہ تعالیٰ أن یدخل الکفار الجنۃ وان یدخل الزھاوالعباد النار ،لأن لملک ملکہ ولا عتراض لاحد علیہ۔ خلاصہ: (حضرت)عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ان تغفرلہم (اور اگر بخش دے تو ان کو ) کہنا کیسے جائز تھا حالانکہ وہ لوگ مشرک تھے اور مشرک کی بخشش اللہ تعالیٰ نہیں فرمائیں گے ۔جواب نمبر دو (امام رازی فرماتے ہیں)ہمارے نزدیک جائز ہے اگر اللہ تعالیٰ تمام کافروں کو جنت میں اور فرمانبردار عبادت گزار کو جہنم میں داخل کردے ، کیوں کہ تمام لوگ اس کی ملک ہیں ، اس پر کسی کو اعتراض کاحق نہیں ۔(یہی اکبر دیوبند کا مسلک ہے۔ اقبال) (ماخوذ:تفسیر کبیر پ۷المائدہ:۱۱۸مصنف امام فخر الدین رازی) معتزلہ کہتے ہیں کہ گناہ کبیرہ کرنے والا نہ مومن ہے نہ کافر یعنی واجبا ت کی ادائیگی اور گناہوں کا چھوڑنا حقیقت ایمان کا جزہیں۔ اس کے بغیر نفس ایمان باقی نہیں رہتا اور کفر یعنی انکار کے نہ پائے جانے کے سبب کفر میں داخل بھی نہیں ہوگا ، نتیجہ نہ مومن اور نہ کافر ،اور خوارج کے نزدیک گناہ کبیرہ کرنے والا کافرہے ، لیکن اہلسنت کے نزدیک گناہ کبیرہ کرنے والا کافر نہیں ، اجما ع امت بھی اس پر ہے کہ کبیرہ گناہ کرنے والا کافرنہیں ہے ، زمانہ نبوت سے لے کر آج تک امت کا اتفاق گناہ کبیرہ کرنے والوں کی نمازِ جنازہ پڑھنے اور ان کے واسطے دعاء استغفار کرنے پر رہا ہے ،چنانچہ شرح عقائد نسفی میں ہے :۔ ’’انالکبیرۃ التی ھی غیر الکفر ، لاتخرج العبد المومن من الایمان لبقاء التصدیق الذی ھو حقیقۃ الایمان خلافا للمعتزلۃ حیث زعموا ان مرتکب الکبیرۃ لیس بمومن ولا کافر ، وھٰذا ھو المنزلۃ بین المنزلتین بناءً علیٰ ان الاعمال عندہم جزء من حقیقۃ الایمان ولا تدخلہ ای العبد المومن فی الکفر خلافا للخوارج فانہم ذھبواالی ان مرتکب الکبیرۃ بل الصغیرۃ ایضاً کافرٌ وانہ لا واسطہ بین الایمان والکفر‘‘۔ (ماخوذ:بیان الفوائد (فی) حل شرح العقائد۲؍۱۱۲،۱۱۱)
گناہ کبیرہ کرنے والوں کی بخشش میں اختلاف: لیکن معتزلہ کے نزدیک گناہ کبیرہ کفر کے برابر ہے یعنی کافر اور گناہ کبیرہ کرنے والا جو بغیر توبہ کے مرگیا ہو، دونوں ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے ، اور اہل سنت والجماعت والے کہتے ہیں کہ شرک کے علاوہ اللہ تعالیٰ جس کے چاہیں گے گناہ معاف کردیں گے ، خواہ وہ گناہ چھوٹے ہوں یا بڑے ، توبہ کے ساتھ ہوں یا بلا توبہ، اور معتزلہ کہتے ہیں کہ نہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (ومن قتل مؤمناً متعمداً فجزآءُ ہ جھنم خالداً فیھا*النسآء:۹۳)اور جو کوئی قتل کرے مسلمان کو جان کر تو اس کی سزا جہنم ہے ، پڑا رہے گا اس میں ہمیشہ (مایبدل القول لدیّ *ق:۲۹،بدلتی نہیں بات میرے پاس)غلط ثابت ہوتاہے ، پہلی آیت میں عذاب کی خبر موجود ہے اور دوسری آیت میں بات نہ بدلنے کی خبر ، پس اللہ تعالیٰ معاف فرمادے اور عذاب نہ دے تو ان آیات کا اپنی خبر میں معاذ اللہ خلاف ہونا لازم آئیگا ، جو باطل ہے ،لیکن اہل سنت والے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعید خلافی یعنی عذاب کی دھمکی کے خلاف کرنا جائز ہے ، کیونکہ وعدہ خلافی تو مذموم وبرا اور ناپسند ہے ،مگر اپنی دھمکی کے خلاف کرنا برائی نہیں ، چنانچہ شر ح عقائد نسفی میں ہے ۔ ’’ویغفر مادوں ذالک لمن یشاء من الصغائر والکبائر مع التوبۃ اوبدونھا خلافا للمعتزلۃ‘‘۔ اور اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہیں گے شر ک کے علاوہ گناہ معاف کردیں گے خواہ صغائر ہوں یا کبائر، توبہ کے ساتھ ہوں یا بلا توبہ،برخلاف معتزلہ کے ۔ والمعتزلۃ یخصّصو نھا بالصغائر وبالکبائر المقرونۃ بالتوبۃ ، وتمسّکو الوجھین الاول الآیات والاحادیث الواردۃ فی وعید العصاۃ۔ اورمعتزلہ مغفرت اور معافی کو صغائر کے ساتھ اور ان کبائر کے ساتھ خاص کرتے ہیں جو توبہ کے ساتھ ہوں اور انہوں نے دو طریقوں سے استدلال کیا ہے اول وہ آیات اور احادیث ہیں جوگناہ گاروں کی وعید کے سلسلے میں وارد ہیں۔ وزعم بعضہم ان الخلف فی الوعید کرم فیجوز من اللہ تعالیٰ ، والمحققون علا خلافۃ کیف وھو تبدیل للقول وقد قال اللہ تعالیٰ (مایبدل القول لدیّ) اور بعض لوگوں نے کہا کہ وعید خلافی کرم ہے (یعنی اپنی دھمکی کے خلاف )تو اللہ کی طرف سے جائز ہے ، اور محققین اس کے خلاف ہیں ایسا کیسے ہو سکتاہے ، دراں حالیکہ یہ بات کو بدلنا ہے اور اللہ تعالیٰ فر ماچکے ہیں کہ (میرے یہاں بات بدلا نہیں کرتی ) (ماخوذ:بیان الفوائد فی شرح عقائد ۲؍۱۲۳) مذکورہ عبارت کی تصدیق جناب احمد رضاخاں بریلوی سے : وہ لکھتے ہیں :اہل سنت بالاجماع اور معتزلہ کا ایک فرقہ عاصیان کبائر کردگان وبے توبہ مردگان کے امکان عقلی پر متفق ہیں یعنی عقل محال نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ ان سے مواخذہ نہ فرمائے ، مگر امکان شرعی میں اختلاف ہوا، اہل سنت بالاجماع شرعاً بھی جائز بلکہ واقع (مانتے ہیں )اور یہ فرقہ وعیدیہ سمعاً ناجائز اور عذاب واجب مانتے ہیں ، اس کے جواب میں جواز خلف کا مسئلہ پیش ہوا (کہ اللہ تعالیٰ عذاب کی خبر کے خلاف کرکے معاف کرسکتے ہیں یا نہیں)اے معتزلہ تمہارا استدلال تو جب تمام ہو کہ ہم وقوع وعید (عذاب کی خبر کو)شرعاً واجب مانیں وہ ہمارے نزدیک جائز الخلف (معافی سے بدل سکتی) ہے تو عفو (معاف کرنا )جائز کا جائز ہی رہا اور شرعاً وجوب عذاب کہ تمہارا دعویٰ تھا ثابت نہ ہوا ۔( ماخوذ:سبحان السبوح ص۹۸) جب معتزلہ اس بحث میں ناکام رہے تو انہوں نے اپنے اس دعویٰ کو سچا ثابت کرنے کیلئے ایک نیا شوشہ چھیڑا ، اس لئے کہ اہلسنت والے اس سے ڈر کر ہمارے مسلک کی تائید کریں گے ، انہوں نے یہ کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کے وعدہ کے خلاف کرتے ہوئے ان لوگوں کو جو کبیرہ گناہ کرنے کے بعد بلا توبہ مرگئے ہوں معاف فرمادیویں تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے خلاف ہوگا ، جس میں فرمایا ہے (بات بدلتی نہیں میرے یہاں )(ق:۲۹) اوربات بدلنا جھوٹ کو ثابت کرتا ہے تو معاذ اللہ ، اللہ تعالیٰ کا جھوٹ بولنا ثابت ہوگا ، اور جھوٹ بولنا برا فعل ہے ، (اور برائی سے اللہ تعالیٰ پاک ، کیونکہ یہ نقص ہے اور نقص تحت قدرت نہیں )
اہل سنت والجماعت کی معتبر کتاب شرح مواقف میں مرقوم ہے ؛ ’’ اوجب جمیع معتزلۃ والخوار ج عقاب صاحب الکبیرۃ اذا مات بلاتوبۃ ولم یجوز ان یعفو اللہ عنہ بوجھین الاوّل انہ تعالیٰ اوعد بالعقاب علی الکبائر واخبریہ ای العقاب علیھا فلولم یعاقب علی الکبیرۃ وعفا لزم الخلف فی وعیدہ والکذب فی خبرہ انہ محال والجواب غایۃ وقوع العقاب فایں وجوب العقاب الذی کلامنا فیہ اذ لا شبھۃ فی ان عدم الوجوب مع الوقوع لا یستلزم خلفاولاکذبالایقال انہ یستلزم جوازھما وھو ایضاً محال لانانقول استخالہ ممنوعۃ کیف وھما من الممکنات التی تشملھا قدرۃ تعالیٰ۔‘‘ یعنی :تمام معتزلہ اور خوارج نے کبیرہ گناہ کرنے والے کے لئے عذاب کو واجب قرار دیا ہے ، جبکہ بغیر توبہ کے مرے ، اور اس بات کو جائز قرار نہیں دیا کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردے دو وجہ سے ایک تو اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے کبائر پر عذا ب کا وعدہ فرمایا ہے اور کبائر پر عذاب کی خبر دی ہے ، پس اگر کبیرہ گناہ پر عذاب نہ دے اور معاف کردے تو وعدہ خلافی لازم آئی گی ، اورجھوٹ بولنا لازم آئے گا، اور جھوٹ بولنا اللہ تعالیٰ کا محال (تحت قدرت نہیں)ہے۔ جواب : تو ا س کا جواب یہ ہے کہ اللہ پاک نے عذاب کے ہونے کی وجہ بتلائی ہے ( کہ گناہ کبیرہ کرنا عذاب کی وجہ ہے )یہ نہیں بتایا کہ گناہ کبیرہ کرنے کی صورت میں عذاب لازم ہے ، اس لئے وقوع کے ساتھ واجب(عذاب کا لازم )نہ ہونا وعدہ خلافی اور جھوٹ کو لازم نہیں ہے (آگے ایک اشکال اور اس کا جواب ہے )یہ نہ کہا جائے کہ وقوع کے ساتھ واجب نہ ہونا وعدہ خلافی اور جھوٹ کو لازم کرنا ہے ، اور یہ جھوٹ کو لازم ہونا محال ہے ، اس لئے ہم کہتے ہیں یہ محال ہونا ممنوع ہے اس لئے کہ جھوٹ اور وعدہ خلافی اُن ممکنات میں سے ہیں جو اللہ کی قدرت میں ہیں ‘‘(ماخوذشرح مواقف ص۲۰۴،۲۰۳جز ثامن المقصد الخامس ج۸مصنف الامام القاضی عضد الدین عبد الرحمن بن احمد ، شار ح السیّد الشریف علی بن محمد الجرجانی المتوفی ۸۱۶ھ ؁ مطبع مصر) نتیجہ: ( ۱) اور معاف کردے تو وعدہ خلافی لازم آئیگی اور یہ کذ ب ہے اور کذب اللہ کے لئے محال یعنی تحت قدرت نہیں ، یہ عقیدہ تمام معتزلہ اور خوارج کا ہے ۔ (۲) عذاب کا لازم نہ ہونا وعدہ خلافی اور کذب کو لازم نہیں ، اس لئے کہ( اگرواقعی یہ کذب ہے تو یہ )کذب او ر وعدہ خلافی ان ممکنات میں سے ہیں جو اللہ کی قدرت میں ہیں ، یہ عقیدہ اہل سنت والجماعت کا ہے ۔ خلف وعید اور امکان کذب )
 (قارئین: جو کچھ اوپر گذر ا وہ سب کچھ اصل کو سمجھنے کے لئے تھا ، اب ملاحظہ فرمائیں اصل حقیقت ) جناب مولوی عبد السمیع صاحب رام پوری گزرے ہیں ، انہوں نے بدعات کے جواز میں ا یک کتاب ’’انوارساطعہ ‘‘تحریر فرمائی، اس میں انہوں نے نام لئے بغیر شاہ محمد اسماعیل شہید ؒ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ، کوئی جناب باری تعالیٰ کو امکان کذب کا دھبہ لگاتا ہے ،انتہیٰ۔ اس مذکورہ کتاب کے جواب میں جناب مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ نے ’’براہین قاطعہ ‘‘تحریر فرمائی او ر اس میں وہ شاہ صاحب کی طرف سے جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں ؛ مسئلہ خُلْف وعید قدماء میں مختلف فیہ ہے امکان کذب کا مسئلہ تو اب جدید (نئے سرسے )کسی نے نہیں نکالا بلکہ قدما ء میں اختلاف ہوا ہے کہ خلف وعید آیا جائز ہے کہ نہیں ، چنانچہ در مختار میں ہے ’’ھل یجوز الخلف فی الوعید فظاہر ما فی المواقف والمقاصد ان لا شاعرۃ قائلون یجوزہ لانہ لا یعد نقصًا بل جواد وکرماً...الخ خلف وعید جائز ہے کہ نہیں ظاہر تو یہ ہے کہ اشاعرہ (جماعت کے لوگ)اس کے قائل ہیں ......اس وجہ سے کہ وہ اس کو نقص نہیں شمار کرتے بلکہ بخشش و کرم تصو ر کرتے ہیں ، ایسا ہی دیگر کتب میں لکھا ہے ،پس اس پر طعن کرنا پہلے مشائخ پر طعن کرنا ہے ....امکان کذب کہ خلف وعید کی فر ع ہے جو قدماء میں مختلف فیہ ہوچکا ہے ۔(ماخوذ:براہین قاطعہ ص۶) چند الفاظ کے معنیٰ : نمبر(۱) خُلْف کے معنی ، خلاف کرنا نمبر( ۲) وعید یعنی سزا کی دھمکی نمبر (۳) قدماء یعنی پہلے والے لوگ نمبر (۴) مختلف فیہ یعنی جس مسئلہ میں اختلاف ہو۔ خلاصہ کلام یہ کہ : اللہ تعالیٰ اپنی سزا کی دھمکی کے خلاف کرتے ہوئے ان لوگوں کو جو کبیرہ گناہ کرنے کے بعد مرگئے ہوں بخشے گا یا نہیں اس مسئلہ میں پہلے والے بزرگوں میں اختلاف ہوا ، اہل سنت والجماعت اشاعرہ کے نزدیک مذکورہ گناہ گاروں کو بخش دینا جائز ہے ، کیونکہ وہ اس بخشش کو کرم و مہربانی تصور کرتے ہیں جب کہ معتزلہ حضرات کے نزدیک جائز نہیں ، وہ اس لئے کہ اس بخشش سے اللہ تعالیٰ کا اپنی دھمکی کے خلاف کرنا لازم آتاہے ، اور کسی خبر کے خلاف کرنا کذب کہلاتاہے ۔ یہی مذکورہ کذب گناہ گاروں کو بخشنے یا نہ بخشنے کی بحث سے نکلی ہوئی ایک بات ہے جس کا دوسرا نام ہے ’’خُلْف وعید کی فرع‘‘اس لئے جناب حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری ؒ نے فرمایا کہ تم لوگ خوامخواہ حضرت شاہ محمد اسماعیل شہیدؒ پرتہمت لگاتے ہو، امکان کذب کا مسئلہ نیا تو نہیں بلکہ شروع سے چلا آرہا ہے ، جب یہ تحریر’’براہین قاطعہ‘‘میں جناب احمد رضا خاں بریلو ی نے پڑھی ، تب ان کو جو ش آیا اور انہوں نے حضرت سہارنپوری ؒ اور شاہ صاحبؒ پر الزامات عائد کرنے اور ان کی تحریرات کو غلط رنگ دیکر اُن کو (معاذ اللہ ) جھوٹا ثابت کرنے کیلئے چھ رسائل پر مشتمل ’’سبحٰن السبوح عن عیب کذب مقبوح‘‘نامی کتاب لکھی ،ا س میں پہلے انہوں نے ایک سوال قائم کیا ، پھر جواب میں تمام کتاب پوری کی ،ملاحظہ فرمائیں سوال اور جواب۔

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان متین دربارہ مسئلہ امکان کذب باری تعالیٰ جس کا اعلان تحریری و تقریری علماء گنگوہ و دیوبنداور ان کے اتباع آج کل بڑے زور و شور سے کر رہے ہیں تحریراً کتاب’’براہین قاطعہ‘‘کہ مولانا خلیل احمد کے نام سے شائع کی گئی جس کی لوح پر لکھا ہے بامر حضرت رشید احمد گنگوہی .......جس سے ثابت ہوتاہے کہ کتاب ہی رشید احمد گنگوہی کی ہے ، صفحہ تین پر یوں لکھا ہے ۔ امکان کذب کامسئلہ تو اب جدید کسی نے نہیں نکالا ، بلکہ قدماء میں اختلاف ہوا ہے ، کہ خلف وعید آیا جائز ہے یا نہیں درمختار میں ہے ھل یجوز الخلف فی الوعید فظاہر مافی المواقف والمقاصد ان الا شاعرۃ قائلون بجوازہ اس پر طعن کرنا پہلے مشائخ پر طعن کرنا ہے اور اس پر تعجب کرنا محض لاعلمی اور امکان کذب خلف وعید کی فرع ہے ، انتہٰی ملخصاً تقریراً مولوی ناظر حسن دیوبند مدرس اول مدرسہ میرٹھ نے مسجد بالائے کوٹ پر بلند آواز سے چند مسلمانوں میں کہا کہ ہمارا تو یہ اعتقاد ہے کہ خدا نے کبھی جھوٹ بولا نہ بولے گا مگر بول سکتا ہے کہ بہشتیوں کو دوزخ میں اور دوزخیوں کو بہشت میں بھیج دے تو کسی کا اجارہ نہیں (یہی مضمون تفسیر کبیر میں امام رازی کے حوالہ سے شروع میں گذر چکا ہے۔ اقبال)اور یہی امکان کذب ہے انتہٰی ،ایسا اعتقاد رکھنا کیسا ہے اور اس کے پیچھے نماز درست ہے یانہیں ؟ جواب: امکان کذب الہٰی کو خلف وعید کی فرع جاننا اور اس میں اختلاف ائمہ کی وجہ سے امکان کذب کو مختلف فیہ ماننا ایک تو افتراء دوسرے کتنا بے مزہ بے شک مسئلہ خلف وعید میں بعض علماء جانب جواز گئے اور محققین نے منع و انکار فرمایا ، مگراس سے امکان کذب ثابت نہ یہ علماء مجوزین کا مسلک .....پھر ان کی طرف امکان کذب کی نسبت سخت جھوٹ وظلم ۔(سبحٰن السبوح ص۲،۸۶) چند اہم وضاحتیں:
جناب احمد رضاخاں بریلوی فرماتے ہیں ؛ (۱) ’’امکان کذب الہٰی کو خلف وعید کی فر ع جاننا ‘‘ (۲) ’’اور اس (خلف وعید )میں اختلاف ائمہ کی وجہ سے امکان کذب کو مختلف فیہ ماننا ‘‘ (۳) ’’پھر ان (ائمہ )کی طرف امکان کذب کی نسبت سخت جھوٹ و ظلم ‘‘(جیسا کہ اوپر مذکو ر ہے ) قارئین ! جناب احمد رضاخاں بریلوی ایک تو ’’امکان کذب‘‘کو خلف وعید کی فرع نہیں مانتے اور دوسرے انہوں نے جواب میں ہیرا پھیری کرتے ہوئے یہ لکھ دیا کہ ’’اور اس (خلف وعید ) میں اختلاف کی وجہ سے امکان کذب کو مختلف فیہ ماننا۔ حالانکہ جوعبارت سوال میں حضرت سہارنپوری کی طرف منسوب لکھی ہے ، اس میں ہے ؛ ’’بلکہ قدماء (پہلے بزرگوں )میں اختلاف ہوا ہے کہ خلف وعید آیا جائز ہے یانہیں۔ اور امکان کذب خلف وعید کی فرع ہے۔ خلاصہ: یہ کہ حضرت سہارنپوری ائمہ کا اختلاف خلف وعید میں ثابت کرتے ہیں جبکہ جناب احمد رضاخاں نے امکان کذب کو مختلف فیہ لکھ دیا ، جبکہ اصل یوں ہے یعنی’’امکان کذب خلف وعید کی فر ع ہے ‘‘ ملاحظہ فرمائیں فرع کا معنیٰ: (۱)ٹہنی ، شاخ ، ڈالی (۲)وہ جس کی اصل کوئی او ر چیز ہو ۔(ماخوذ:فیر وز اللغات اردو) جب درخت ہی نہیں ہوگا تو اس کی ٹہنیاں اور شاخیں کہاں آئیں گی ، اور جب کوئی بحث ہی نہیں ہوگی تو امکان کذب کا مسئلہ کیسے کھڑا ہوگا ، امکان کذب کی کچھ حقیقت تو ہم اوپر بیان کرچکے ہیں باقی مزید جناب احمد رضاخاں بریلوی ہی کی عبارت سے ثابت کرتے ہیں. حضرت سہارنپوری کی عبارات کا فیصلہ جناب احمد رضاخاں کی عبارات سے : (۱) حضرت سہارنپوری فرماتے ہیں ’’بلکہ قدماء میں اختلاف ہو اہے کہ خلف وعید آیا جائز ہے یانہیں ‘‘ جناب احمد رضاخاں بریلوی لکھتے ہیں؛ ’’اہل سنت بالاجماع اور معتزلہ کا ایک فرقہ مغفرت عاصیاں کبائر کردگان وبے توبہ مردگان کے امکان عقلی پر متفق ہیں ....مگر امکان شرعی میں اختلاف پڑا ، اہل سنت بالاجماع شرعاً بھی جائز بلکہ واقع اور یہ فرقہ وعیدیہ سمعاً ناجائز اور عذاب واجب مانتے ہیں ....اس کے جواب میں جواز خلف کا مسئلہ پیش ہو...الخ(ماخوذ:سبحٰن السبوح ص۹۸) خلاصہ: جولوگ گناہ کبیرہ کرنے کے بعد بغیر توبہ کے مرگئے ہوں ، ان کے بخشے جانے کو اہل سنت گروہ عقلاً او ر شرعاً جائز مانتے ہیں اور معتزلہ اس بخشے جانے کے خلاف ہیں اور عذاب دئیے جانے کو واجب کہتے ہیں۔ اختلاف کس چیز میں ہے ؟وہ آپ کے سامنے آگیا ۔(یعنی گناہ گاروں کی بخشش میں) (۲) حضرت سہارنپوری فرماتے ہیں؛’’امکان کذب خلف وعید کی فرع ہے ‘‘ فرع کہتے ہیں ، شاخ اور ٹہنی کو یا جس کی اصل کوئی اور چیز ہو۔ کذب کی اصل اور اس کا درخت کیا ہے ؟ اس بارے میں جناب احمد رضاخاں بریلوی لکھتے ہیں۔ (۱) (اہل سنت کے )’’امام ابو عمر و بن العلاء رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘عمر و بن عبید پیشوا معتزلہ سے فرمایا ؛اہل کبائر کے بارے میں تیرا کیا عقیدہ ہے (اس نے )کہا میں کہتاہوں اللہ تعالیٰ اپنی وعید (سزا کی خبر) ضروری پوری کریگا ، جیسا کہ اپنا وعدہ بے شک پور افرمائے گا ، امام (اہل سنت )نے فرمایا .....عرب وعدہ سے رجوع(و پھرنے ) کو نالائقی جانتے ہیں اور وعید (سزا کی خبر)سے درگذر کو کرم (و معافی)معتزلہ حکایت کرتے ہیں اس پر عمر و (پیشوا ئے معتزلہ )نے جواب دیا کیا خدا کو اپنی ذات کا جھٹلانے والا ٹھہرائے گا ؟امام (اہل سنت )نے فرمایا نہ ، عمرو نے کہا تو آپ کی حجت ساقط ہوئی (یعنی دعویٰ ثابت نہ ہوا) اس پر امام بند ہوگئے ۔(ماخوذ:سبحن السبوح ص۹۳) قارئین ! جیسا کہ اوپر مذکور ہے یعنی خدا کو اپنی ذات کا جھٹلانے والا ٹھہرائے گا ، یہ جملہ کس بحث میں ہے اورکیوں کہا گیا؟کیا ہیجڑوں کی لڑائی ہے یا کرکٹ کے کھیل کی بحث ہے ؟ جناب احمد رضاخاں بریلوی تو یہ فرماتے ہیں کہ ’’امکان کذب الہٰی کو خلف وعید کی فرع’’یعنی بخشنے یا نہ بخشنے کی بحث سے نکلی ہوئی ایک بات ۔اقبال)جاننا ....ایک تو افتراء (بہتان)دوسرے کتنا بے مزہ ‘‘۔دوسروں کو سڑی سڑی سنانے والے مجد د صاحب خود اپنی ہی عبارتوں سے بے مزہ اورغلط ثابت ہورہے ہیں ، جناب احمد رضاخاں دوسری جگہ لکھتے ہیں: (۲) مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت میں ہے ۔(صرف ترجمہ) یعنی وعید میں خُلْف (سزا کی خبر میں خلاف کرنا )جائز کہ سلیم عقلیں اُسے خوبی گنتی ہیں نہ عیب اور وعدہ میں (خلاف کرنا )عیب ہے اور عیب اللہ عزوجل پر محال ، اس پر اعتراض ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی وعید (سزا کی خبر)بھی ایک خبر ہے ، تو یقیناًسچی کہ باری جل و علا کا کذب محال اور عذر کیا گیا کہ ہم اُسے خبر نہیں مانتے بلکہ انشائے تخویف ....الخ یعنی ڈرانا دھمکانا ۔ (ماخوذ:سبحان السبوح ص۸۸، مصنف احمدر ضاخاں بریلوی) خلاصہ و تبصرہ: سزا کی خبر کے خلاف کرنا جائز ، لیکن وعدہ (کی خبر)میں خلاف کرنا ناجائز ، سزا کی خبر بھی ایک خبر ہے کہ سچی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا جھوٹ بولنا محال ، عذر کیا گیا کہ ہم اُسے خبر نہیں مانتے ‘‘کیوں؟
قارئین ! فیصلہ فرمائیں کہ ایک فریق کہتاہے کہ سزا کی خبر کے خلاف کرنا جھوٹ بولنا ہے (معاذ اللہ )دوسرا فریق کہتاہے کہ یہ جھوٹ بولنا نہیں بلکہ ڈرانا دھمکانا ہے ، یہ کیاجھگڑا ہے؟اس جھگڑے کو کیا آپ یہی کہیں گے کہ دوسوکنیں یعنی ایک خاوند کی دو بیویاں آپس میں لڑ رہی ہیں یا دو پٹھان چائے کی پیالی پر لڑ رہے ہیں۔ ؂ نہ محقق ہے اور نہ دانش مند بیل پر ہیں لدی کتابیں چند ؂ اس تہی مغز کو نہیں ہے خبر کہ یہ لکڑی ہے اس پہ یا دفتر ثابت ہوگیا کہ کذب کی اصل کیاہے: یعنی گناہ گاروں کو بخشنے یا نہ بخشنے کی بحث سے نکلی ہوئی ایک بات ہے جس سے جناب احمد رضاخاں بریلوی انکاری ہیں اور انکاری بھی اس طرح کہ جس چیز کا انکار کرتے ہیں تو پھر اس چیز کو خود ثابت کرتے ہیں اپنا منہ اپنا تماچہ۔ ایک وضاحت: ایک حقیقت ہے اور ایک ہے اس حقیقت کی مثل مثلاً؛ وعدہ ایک خبر اور حقیقت ہے اور وعدہ کے خلاف کرنا کذب کہلاتاہے اور اسی طرح سزا کی خبر بھی ایک خبر ہے جو وعدہ کی خبر کی مثل ہے ، جب مثل یعنی سزا کی خبر کے خلاف خدا تعالیٰ کی قدرت ثابت ہے تو حقیقت یعنی وعدہ کی خبر کے خلاف پر خدا تعالیٰ کو قدرت کیوں نہیں ہے ؟خیال رہے کہ ہم یہاں محض کذب پر قدرت ثابت کرنا نہیں چاہتے بلکہ جھگڑے کی اصل نوعیت اور الزامات کو بے بنیاد ثابت کرنا چاہتے ہیں ، مثلاً قرآن مجید میں ہے ؛ وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا متعمداً فجزاؤہ جھنم خالداً فیھا۔(النسآء :۹۳) اور جو کوئی کسی مؤمن کو قصداً قتل کرے اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ ف: سز ا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ۔( النسآء :۹۳) یہ ایک خبر ہے ، اللہ تعالیٰ کی اس خبر کے پیش نظر معتزلہ کہتے ہیں کہ قتل کرنے والا اگر بغیر توبہ کے مرگیا تو اس کے لئے جہنم کی سزا ضروری وواجب ہے ، اور اگر اللہ تعالیٰ سزا نہ دے تو اللہ تعالیٰ کی سزا کی خبر جھوٹی ہوجائے گی (معاذ اللہ ) اور جھوٹ پر خداکو قدرت نہیں کیونکہ جھوٹ ایک نقص ہے اور نقص سے اللہ تعالیٰ پاک لہٰذا سزا ضروری ہوگی ۔ لیکن اہل سنت گروہ کہتے ہیں کہ شرک کے علاوہ اللہ تعالیٰ جس کے چاہیں گے گناہ معاف فرمادیں گے ، وہ گناہ چھوٹے ہوں یا بڑے ، توبہ کے ساتھ ہوں یا بغیر توبہ کے ۔ نتیجہ: معتزلہ بخشش کے قائل نہ ہوتے بالفاظ دیگر کذب کے قائل نہ ہوئے اور اہل سنت بخشش کے قائل ہوئے بالفاظ دیگر کذب کے قائل ہوئے۔(جیسا کہ اوپر مذکور ہے ) نیزمعتزلہ جماعت اہل سنت گروہوں کو یہ الزام دیتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات کا جھٹلانے والا ٹھہراتے ہو ، بعینہ اسی طرح جناب احمد رضاخاں بریلوی علماء دیوبند پر الزام عائد کرتے ہیں کہ ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹ بولتاہے ۔(العیاذ باللہ ثم العیاذ باللہ) خلاصہ بحث: جو مذہب معتزلہ کا وہی مذہب جناب احمد رضاخاں بریلوی کا محض الزام دھرنے کے لئے جناب احمد رضاخاں بریلوی نے معتزلہ کا راستہ اختیار کیا ۔ جناب احمد رضاخاں بریلوی فرماتے ہیں؛ ائمہ متقدمین میں کچھ علماء ایسے تراشے جو کذب الہٰی کے جواز و قوعی بلکہ وقوع بالفعل کے قائل ہوئے وہ تراشیدہ علماء ساخطہ قطعاً اجماعاً کافر مرتد تھے ، مرتدوں کو کافر نہ جاننا بلکہ مشائخ دین ماننا تو خود ان پر کفر لازم آنے پرکیا کلام رہا جو کسی منکر ضروریات دین کو کافر نہ کہے آپ کافر ۔(سبحان السبوح ص۱۲۷) مختصر تبصرہ: جن اکابر و مشائخ کو جناب احمد رضاخاں نے کافر و بے دین کہا ہے ان کے نام کیوں نہیں لکھے ، ہاں اگر نام لکھتے تو نامعلوم مسلمان ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے کیونکہ دیوبندی اور بریلوی دونوں حنفی اور دونوں کا اوپر کا سلسلہ ایک ہے ۔ قارئین ! جب سچائی کو جھوٹ کے ساتھ گرہ دینے کا رواج چل پڑے اور انسانی ضمیر بازاری اشیا ء کی طرح فروخت ہو رہا ہو تو ایسے میں صحیح راستہ تلاش کرنا ناممکن ہو جاتاہے ، نظام فطرت میں جھوٹ اور سچائی کے مابین کشمکش کی تاریخ انسا ن کی پیدائش سے شروع ہے ، کبھی جھوٹ کی چمک سچائی کو اپنے اندر چھپالیتی ہے اور کبھی سچائی ابھر کر جھوٹ کی روشنی کو مار دیتی ہے ، جیسے ہی افسانوی بت حقیقت کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں وقت اپنا فیصلہ سنا دیتاہے اور جھوٹ کی ساری عمارت ڈھیر ہو کر رہ جاتی ہے یہی بریلوی جماعت اور جناب احمد رضاخاں بریلوی کا مذہب ہے ۔ ؂ تو جونہیں کچھ بھی نہیں مانا کہ یہ محفل جواں ہے حسیں ہے

مقدمہ نمبر ۴:اکابر علماء کی عبارتیں اب آپ کے سامنے ان اکابر اسلام کی عبارات پیش کی جاتی ہیں جو جناب احمد رضاخاں بریلوی کے نزدیک کافر و مرتد ہیں لیکن دنیائے اسلام ان کو اپنا پیشوا اور امام تصور کرتی ہے۔ نمبر(۱) حتیٰ تجبر کثیر منہم ای من اکابر الاشاعرۃ فی الحکم باستحالہ الکذب علیہ تعالیٰ لانہ نقص لما الزم المعتزلہ (ص۲۰۴) ثم قال ای صاحب العمدۃ لایوصف اللہ تعالیٰ بالقدرۃ علی الظلم والسفہ الکذب لان المحال لا یدخل تحت القدرۃ ای لایصلح متعلقہا وعند المعتزلۃ یقدر تعالیٰ علی کل مما ذکر ولا یفعل انتہٰی کلام صاحب العمدۃ وکانہ انقلب علیہ مانقلہ عن المعتزلۃ اذ لا شک فی ان سلب القدرۃ عما ذکر من الظلم والسفہ والکذب ھو مذھب المعتزلۃ واما ثبوتھا ای القدرۃ علی ماذکر ثم الامتناع عن متعلقھا اختیاراً فبمذہب ای فھو مذہب الاشاعرۃ الیق منہ بمذہب المعتزلۃ فیجب القول بادخل القولین فی التنزیہ وھو القول الالیق بمذہب الاشاعرۃ۔ ترجمہ: حتی کہ بہت سے اکابر اشاعرہ اللہ تعالیٰ پر کذب کے محال ہونے کا حکم لگانے سے متحیر ہوگئے اس لئے کہ یہ نقص ہے اس مذہب (معتزلہ) کی وجہ سے جو لازم کیا معتزلہ نے (ص۲۰۴)پھر صاحب عمدہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کو ظلم بیوقوف اور جھوٹ پر قدرت کے ساتھ موصوف نہیں کیا جاتا، اس لئے محال قدرت کے تحت داخل نہیں ہوتا یعنی محال قدرت سے متعلق ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا ، اور معتزلہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ مذکورہ تمام چیزوں کی قدرت رکھتاہے ، اور کرتا نہیں، یہ صاحب عمدہ کا کلام ہے (عمدہ ایک کتاب ہے )اور انہوں نے معتزلہ سے جو بات نقل کی ہے گویا اس میں انہیں بھول ہوئی ہے اس میں شک نہیں کہ سلب قدرت (یعنی قدرت نہ رکھنا )جو مذکورہ چیزوں کے متعلق ہے وہ معتزلہ کا مذہب ہے اور بہر حال مذکورہ چیزوں پر قدرت پھر ان کے متعلق امتناع اختیاری طور پر یہ مذہب اشاعرہ کا ہے یعنی اشاعرہ کا مذہب زیادہ لائق ہے معتزلہ کے مذہب کے مقابلہ ، پس اختیار کرنا واجب ہے اس قول کو جو دونو ں قولوں سے تنزیہ (وپاکی)میں زیادہ داخل ہو وہ قول مذہب اشاعرہ کے ساتھ زیادہ لائق ہے ۔(ماخوذ:عربی متن کتاب المسامرہ شر ح المسایرہ ص۲۱۰،۲۰۹، مصنف علامہ ابن الہمام ۷۸۸ھ ؁ میں پیدا ہوئے ، بلند پایہ محدث اور فقہاء تھے ، لوگ حدیث کے لئے حافظ ابن حجرکی طرف اور فقہ واصول کیلئے ابن الہمام کی طرف رجوع کرتے تھے ۔ شرح بابن ابی شریف ، القدسی) نمبر (۲) اوجب جمیع معتزلہ والخوارج عقاب صاحب الکبیرۃ اذا مات بلاتوبۃ ولم یجوز ان یعفو اللہ عنہ بوجھین الاوّل انہ تعالیٰ اوعد بالعقاب علی الکبائر واخبریہ ای العقاب علیھا فلولم یعاقب علی الکبیرۃ وعفا لزم الخلف فی وعیدہ والکذب فی خبرہ انہ محال ، والجواب غایۃ وقوع العقاب فایں وجوب العقاب الذی کلامنا فیہ اذ لا شبھۃ فی ان عدم الوجوب مع الوقوع لایستلزم خلفا ولا کذبا لا یقال انہ یستلزم جوازھما وھو ایضا محال لانا نقول استحالہ ممنوعۃ کیف وھما من الممکنات التی تشملھا قدرۃ تعالیٰ ۔(ماخوذ :شرح مواقف) ترجمہ: تمام معتزلہ اور خوارج نے کبیرہ گناہ کرنے والے کیلئے عذاب کو واجب قرار دیا ہے ، جبکہ بغیر توبہ کے مرے اور اس بات کو جائز قرار نہیں د یا کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردے ، دو وجہ سے ایک تو اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے کبائر پر عذاب کا وعدہ فرمایا ہے اور کبائر پر عذاب کی خبر دی ہے ، پس اگر کبیرہ گناہ پر عذاب نہ دے اور معاف کردے تو وعدہ خلافی لازم آئیگی اور جھوٹ بولنا لازم آئے گا ، اور جھوٹ بولنا اللہ تعالیٰ کا محال (تحت قدر ت نہیں )تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ پاک نے عذاب کے ہونے کی وجہ بتلائی ہے (کہ گناہ کبیرہ کرنا عذاب کی وجہ ہے ) یہ نہیں بتایا کہ گناہ کبیرہ کرنے کی صورت میں عذاب لازم ہے (آگے ایک اشکال اور اس کا جواب ہے )یہ نہ کہاجائے کہ وقو ع کے ساتھ واجب نہ ہونا وعدہ خلافی اور جھوٹ کو لازم کرنا ہے اور یہ جھوٹ کو لازم ہونا محال ہے ، اس لئے ہم کہتے ہیں یہ محال ہونا ممنوع ہے اس لئے کہ جھوٹ اور وعدہ خلافی ان ممکنات میں سے ہیں جو اللہ کی قدرت میں ہیں ۔(دیکھئے شرح مواقف ص۲۰۳،۲۰۴جز ثامن المقصد الخامس ج۸مصنف الاما م القاضی عضد الدین عبد الرحمن بن احمد، شار ح السیّد الشریف علی بن محمد الجرجانی المتوفی ۸۱۶ھ ؁ مطبع مصر میر سید شریف جن کی نحو میر تما م مدارس عربیہ میں پڑھائی جاتی ہے ) نمبر (۳) المنکرون لشمول قدرۃ تعالیٰ طوائف منہم النظام واتباعہ القائلون بانہ لایقدر علی الجہل والکذب والظلم وسائر القبائح اذ لو کان خلقھا مقدورالہ لجاز صدورہ عنہ واللام زم باطل لا فضاۂ الی السفہ ان کان عالماً بقبح ذلک وبااستغناۂ عنہ والی الجہل ان لم یکن عالماً والجواب لانسلم قبح الشی بالنسبۃ الیہ کیف وھو تصر ف فی ملکہ ولوسلم ما لقدرۃ لا تنافی امتناع صدورہ نظر الی الوجو د الصارف وعدم الداعی وان کان ممکنا فی نفسہ۱ھ۔ ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی قدرت برائیوں کو بھی شامل ہے اس عقیدہ کے منکر کئی گروہ ہیں ان میں سے نظام (معتزلی ) اور اس کے ماننے والے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جہالت اور جھوٹ اور ظلم اور تمام برائیوں پر قادر نہیں ، اس لئے اگر یہ بری عادتیں اللہ تعالیٰ کی قدر ت میں ہوں تو اللہ سے صادر بھی (ہو) سکتی ہیں ، اور ان چیزوں کا اللہ سے صادر ہونا باطل ہے ، کیونکہ دو ہی صورتیں ہیں ، یا ان چیزوں کا برا ہونا اللہ کو معلوم ہوگا یا معلوم نہیں ہوگا، اگر معلوم ہوگا تو ان چیزوں کا اللہ سے صادر ہونے کی صورت میں (نعوذ باللہ )لازم آئیگا کہ اللہ بے وقو ف ہے اور اگر ان چیزوں کابرا ہونا اللہ کو معلو م نہیں ہوگا تو اللہ تعالیٰ کا جاہل ہونا لازم آئیگا ۔ والجواب: ہم تسلیم نہیں کرتے کہ اگر اللہ سے یہ اشیاء صادر ہوں تو یہ بری شمار نہیں ہونگی کیونکہ اللہ نے اپنی ملکیت میں تصرف کیا ہے اور اگر مان بھی لیا جاوے کہ اللہ سے صادر ہونے کی صورت میں بھی یہ چیزیں بری شمار ہونگی تو ہم کہتے ہیں کہ اللہ کو ان پر قدرت ہونے سے لازم نہیں آتا کہ ان سے صادر بھی ہوں ،کیونکہ ان افعال کی اللہ کو ضرورت نہیں ، جو چیزفی نفسہ ممکن ہو وہ کبھی کبھی خارج میں یعنی پیدا نہیں ہوتی ، اس وجہ سے کہ کوئی رکاوٹ موجود ہے ، اور اس چیز کے پیدا ہونے کا کوئی تقاضا بھی نہیں ، اس وجہ سے پیدا نہیں ہوئی۔ دیکھئے عربی متن ’’شرح مقاصد ۱۰۳،۱۰۲ج۴ مصنف الامام مسعود بن عمر بن عبد اللہ الشھیربسعد الدین التفتازانی ۷۲۲ھ ؁ میں پیدا ہوئے (حنفی تھے یا شافعی ) سید احمد طحاوی نے حنفی کہا ہے اور ملا علی قاری نے بھی آپ کو حنفیہ میں شمار کیاہے ، سید احمد طحاوی فرماتے ہیں کہ آپ کے زمانہ میں حنفیوں کی مذہبی حکومت آپ پر ختم ہوگئی ، علم صرف، علم نحو، علم منطق، علم فقہ ، علم اصول ، علم تفسیر ، علم حدیث ، علم عقائد ، علم معانی یعنی ہر علم کے اند ر آپ نے کتابیں لکھیں) نتیجہ : ایک تو جناب احمد رضاخاں نے اکابر دیوبند کو بدنام کرنے کے لئے حقیقت کو چھپایا اور اہل سنت سے کٹ کر معتزلہ کا ساتھ دیا ۔ دوسرے جو عبارات جناب احمد رضاخاں نے اپنے دعوے کی تصدیق کے لئے پیش کیں ہیں وہی عبارات مولانا خلیل احمد صاحب سہار نپوری کے دعوے کی حمایت کرتی ہیں ، اور ہم نے انہیں عبارات سے جناب احمد رضاخاں کا رد کیاہے ۔ تیسرے جناب احمد رضاخاں نے اکابر اہل سنت یعنی جن کے نام سے اہل سنت جماعت قائم ہے ان پر بے بنیاد الزام دھرا ہے ، جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔